.

اخوان اپنے مفادات کی اسیر ہے، قطر سے کوئی سروکار نہیں: اماراتی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ اخوان المسلمون کے ارکان اپنے مفادات کے تحفظ میں لگے ہوئے ہیں اور وہ قطر کی حمایت کے ذریعے ہی ایسا کرسکتے ہیں جبکہ قطریوں کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ انھیں خلیجی ہمسایوں سے الگ تھلگ رہ کر کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ہے۔

انھوں نے بدھ کے روز اخوان المسلمون اور قطر کے ساتھ خلیجی عرب ممالک کے تنازع کے تناظر میں سلسلہ وار ٹویٹس پوسٹ کیے ہیں اور ان میں مختلف ممالک میں مصر کی معتوب جماعت اخوان المسلمون کے لیڈروں کی جانب سے قطر کے ایسے وقت میں دفاع کا حوالہ دیا ہے جبکہ خود قطری شہری اپنی ریاست کے دفاع سے ہچکچا رہے ہیں۔

انور قرقاش نے ٹویٹر پر لکھا ہے :’’ بحران کا کوئی بھی مبصر اخوان المسلمون اور ان کے اتحادیوں کی وفاداری کو ملاحظہ کرسکتا ہے کہ وہ ممالک کے ساتھ نہیں ہے بلکہ وہ اپنی جماعتوں اور نظاموں کی تبدیلی کے ساتھ ہیں اور انھوں نے ہمارے امیر کبیر بھائی کو التباس کا شکار کردیا ہے‘‘۔

انھوں نے لکھا ہے کہ یو اے ای سمیت قطر کا بائیکاٹ کرنے والے ممالک کے فیصلے کا براہ راست اخوان المسلمون کے ایشو سے تعلق ہے۔ انھوں نے قطر کے حوالے سے سوال کیا ہے کہ آپ ایک ایسی جنگ کو کیسے جیت سکتے ہیں جب کہ آپ اپنے خاندان اور ارد گرد کو ہار رہے ہیں حالانکہ وہ آپ کے حقیقی ضامن ہوسکتے ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ایک روز قبل کہا تھا کہ اب یہ قطر کی صواب دید پر ہے کہ وہ خطے بھر میں دہشت گردی کے لیے مالی رقوم مہیا کرنے اور انتہا پسندی کو انگیخت دینے کا سلسلہ بند کر دے۔

قطر کا بائیکاٹ کرنے والے ممالک اس سے دہشت گردی کی حمایت سے دستبردار ہونے کا بار بار مطالبہ کررہے ہیں جبکہ وہ اس الزام کی تردید کرچکا ہے کہ وہ دہشت گردی کی کسی طرح معاونت کررہا ہے۔

سعودی عرب ،مصر ،بحرین اور متحدہ عرب امارات نے تیرہ نکات پر مشتمل مطالبات کی ایک فہرست کویت کے ذریعے قطر کو بھیجی ہے۔اس میں قطر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مداخلت پر مبنی اپنی جارحانہ خارجہ پالیسی کا خاتمہ کردے۔ اخوان المسلمون سمیت انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر کی حمایت سے دستبردار ہوجائے۔ان مطالبات کو پورا کرنے کے لیے قطر کے پاس ایک ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔