.

ریکس ٹیلرسن کا قطری وزیر خارجہ سے خلیج بحران پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن سے ملاقات کی ہے اور ان سے خلیج بحران کے حل کے سلسلے میں کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

سعودی عرب ، بحرین ، متحدہ عرب امارات اور مصر کی جانب سے 5 جون کو قطر سے تعلقات منقطع کیے جانے کے بعد دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہے۔امریکی نیوز چینل سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق ریکس ٹیلرسن خلیج بحران کے حل کی تلاش کے لیے کام کررہے ہیں اور وہ اس سلسلے میں خلیجی عرب ممالک کے وزرائے خارجہ سے بات چیت کررہے ہیں۔

قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان نے اس بات پر زوردیا ہے کہ ’’ دوسرے فریقوں کو بھی حقیقی طور پر مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار کرنا چاہیے اور انھیں اپنے الزامات اور مطالبات کے حق میں ثبوت فراہم کرنے چاہییں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ہم دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے داخلی امور میں بھی کوئی مداخلت نہیں کرتے ہیں اور ہم ایران کے خفیہ اتحادی بھی نہیں ہیں‘‘۔

سعودی عرب ،مصر ،بحرین اور متحدہ عرب امارات نے تیرہ نکاتی مطالبات کی فہرست کویت کے ذریعے قطر کو بھیجی ہے۔اس میں قطر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مداخلت پر مبنی اپنی جارحانہ خارجہ پالیسی کا خاتمہ کردے۔ اخوان المسلمون سمیت انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر کی حمایت سے دستبردار ہوجائے۔

اس فہرست میں قطر سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کو بند کردے۔ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لے۔قطر میں ترکی کے ایک فوجی اڈے کا قیام روک دے اور نیٹو کے اس ملک کے ساتھ ہرقسم کا فوجی تعاون بھی ختم کردے۔خلیجی عرب ممالک نے دوحہ کو ان مطالبات کو پورا کرنے کے لیے دس دن کا وقت دیا تھا اور یہ الٹی میٹم اب قریب آ پہنچا ہے۔