.

"کُرد پروٹیکشن" کے شامی ٹھکانوں پر ترک فوج کی گولہ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی فوج نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ گزشتہ رات اس کی فورسز نے شام کے شمال میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے توپوں سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کُرد پیپلز پروٹیکشن فورسز کے کئی ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا۔ ترک فوج کی یہ کارروائی کرد جنگجوؤں کی جانب سے شامی قصبے اعزاز کے جنوب میں مرعناز کے علاقے میں شامی جیشِ حُر کے یونٹوں پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کے بعد کی گئی۔

اس سے قبل ترک خبر رساں ایجنسی اِخلاص نے بتایا تھا کہ کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹوں کے جنگجوؤں نے منگل کی شب مقامی وقت کے مطابق 9:30 بجے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا فائرنگ کے تبادلے میں کوئی ہلاک یا زخمی بھی ہوا یا نہیں۔

شام میں داعش تنظیم کے خلاف لڑائی میں امریکا کُرد پیپلز پروٹیکشن یونٹوں کو سپورٹ کر رہا ہے۔ باوجود یہ کہ ترکی اس پر کئی مرتبہ احتجاج کر چکا ہے کیوں کہ انقرہ حکومت کُرد شامی جنگجوؤں کو دہشت گرد شمار کرتی ہے اور اسے اندیشہ ہے کہ ان کی پیش قدمی سے ترکی میں کرد بغاوت بھڑکے گی۔

ترکی کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹوں کو کردستان ورکرز پارٹی کا پھیلاؤ شمار کرتا ہے جو ترکی میں کالعدم جماعت قرار دی جا چکی ہے۔ امریکا اور یورپی یونین نے بھی اس جماعت کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا ہوا ہے۔