.

قطر نے خلیجی مطالبات مسترد کردیے،’’جائزامور‘‘ پر بات چیت کو تیار

جب قطر کے داعش ، القاعدہ اور حزب اللہ سے تعلقات ہی نہیں تو وہ ختم کیسے کرے: وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر نے کہا ہے کہ وہ علاقائی بحران کے خاتمے کے لیے عرب ریاستوں کے ساتھ ’’ جائز امور‘‘ پر بات چیت کو تو تیار ہے لیکن گذشتہ ہفتے پیش کی گئی مطالبات کی فہرست میں سے بعض کو پورا کرنا اس کے لیے ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ مطالبات جائز نہیں ہیں۔

قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’عرب ممالک کی جانب سے پیش کردہ مطالبات معقول نہیں ہیں ۔ ہم نام نہاد داعش ، القاعدہ اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ تعلقات نہیں توڑ سکتے ہیں کیونکہ ایسے تعلقات کا توکوئی وجود نہیں ہے‘‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’’ ہم ایرانی پاسداران انقلاب کے کسی رکن کو بھی قطر سے بے دخل نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ ایسا کوئی ایرانی ہمارے یہاں مقیم نہیں ہے‘‘۔شیخ محمد نے کہا کہ دوحہ کے لیے وہ کام کرنا ناممکن ہے جو وہ کبھی کرتا ہی نہیں رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’’عرب ممالک کی جانب سے دیے گئے الٹی میٹم کا مقصد فہرست میں پیش کیے گئے ایشوز کو حل کرنا نہیں تھا بلکہ قطر پر اپنی خود مختار ی سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا مگر ہم قطعی طور پر یہ کام نہیں کریں گے‘‘۔

سعودی عرب ،مصر ،بحرین اور متحدہ عرب امارات نے تیرہ نکات پر مشتمل مطالبات کی ایک فہرست قطر کو بھیجی ہے۔اس میں اس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مداخلت پر مبنی اپنی جارحانہ خارجہ پالیسی کا خاتمہ کردے۔ اخوان المسلمون سمیت انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر کی حمایت سے دستبردار ہوجائے۔ان مطالبات کو پورا کرنے کے لیے 3 جولائی کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔

اسی سے متعلقہ ایک اور خبر یہ ہے کہ قطر کے وزیر دفاع حمد بن علی العطیہ جمعہ کو ترکی کے دورے پر جارہے ہیں۔ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق وہ انقرہ میں وزیر دفاع فکری عسیک سے ملاقات کریں گے۔

ترکی قطر میں ایک فوجی بھی اڈا قائم کررہا ہے اور ترک پارلیمان نے اسی ماہ خلیجی ریاست میں اپنے فوجی بھیجنے کی منظوری دی تھی۔اس کے بعد 22 جون کو ابتدائی طور پر 23 ترک فوجیوں اور پانچ بکتر بند گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ قطر پہنچا تھا۔

قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چاروں عرب ممالک نے اس سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے یہاں ترکی کے ایک فوجی اڈے کا قیام روک دے اور نیٹو کے اس ملک کے ساتھ ہرقسم کا فوجی تعاون بھی ختم کردے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے سعودی عرب کی قیادت میں چاروں عرب ممالک کے مطالبات کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیا تھا اور انھوں نے کہا تھا کہ قطر سے ترک فوجیوں کے انخلاء کا مطالبہ دراصل ترکی کی بے توقیری ہے۔