.

مصر میں مذہبی سیاست کا باب مکمل بندکرنے کی کوشش!

مصری سپریم کورٹ میں مذہبی جماعتوں کو ختم کرنے کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سپریم کورٹ حال ہی میں دی گئی ایک درخواست کی آج سے سماعت کررہی ہے۔ اس درخواست میں مذہبی سیاسی جماعتوں کو خلاف قانون قرار دے کر انہیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک کے آئین میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے قیام اور ان کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں۔ موجودہ آئین دین اور سیاست کو خلط ملط کرنے کی اجازت نہیں دیتا، لہٰذا عدالت ایسی تمام مذہبی جماعتوں کو کالعدم قرار دے جو مذہب اور سیاست کو یکجا کرنا چاہتی ہیں۔ ان مذہبی جماعتوں میں پہلے سے زیرعتاب اخوان المسلمون سے وابستہ تنظیمیں، طارق الزمر کی قیادت میں جماعت اسلامی مصر کے سیاسی ونگ تعمیرو ترقی اور دیگر جماعتیں شامل ہیں، طارق الزمر بیرون ملک میں مقیم ہیں۔ مصر، سعودی عرب، بحرین اور امارات کی طرف سے اشتہاری قراردیے گئے دہشت گردوں میں الزمر کا نام بھی شامل ہے۔

سپریم کورٹ میں دی گئی درخواست میں نہ صرف مذہبی سیاسی جماعتوں بلکہ مذہب و سیاست کے ساتھ ساتھ دہشت گردی میں ملوث تنظیموں کو بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں سپریم کورٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ ریاستی کونسل کو ایسی متناز جماعتوں کو تحلیل کرنے کا اختیار دے جو مذہبی بنیادوں پر سیاست یا دہشت گردی کی کارروائیوں میں سرگرم ہوں۔

مصر کی’تعمیرو ترقی‘ سیاسی پارٹی کے مفرور سربراہ طارق الزمر نے حال ہی میں جماعت کی قیادت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ یہ استعفیٰ اس جماعت کی طرف سے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کی کوشش ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مصری حکومت تمام مذہبی جماعتوں کو ایک ہی پلڑے میں تولنے کی خواہاں نہیں۔

مبصرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ 30 جون 2013ء کی فوجی بغاوت کے بعد بہت سی مذہبی جماعتیں سیاسی سرگرمیوں کی قدرت نہیں رکھتیں۔ کئی جماعتوں کو کالعدم قرار دیا چکا ہے۔