فرانس میں گاڑی ھجوم پر چڑھانے کی کوشش، مشتبہ ملزم گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک شخص نے مسجد کے قریب لوگوں پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کی جسے حراست میں لینے کے بعد تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق چھ بج کر 30 منٹ پر مضافاتی علاقے کریٹیل میں پیش آیا اور اس میں کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔

اس واقعے کے محرکات تاحال واضح نہیں ہیں لیکن حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص ارمینیائی نژاد باشندہ ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ پیرس میں شانزے لیزے اور پیٹکلان میں شدت پسند تنظیم ’داعش‘ کی جانب سے کیے گئے حالیہ حملوں کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔

خیال رہے کہ 20 اپریل کو شانزے لیزے میں فائرنگ کے نتیجے میں ایک فرانسیسی پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔ نام نہاد دولت اسلامی’داعش‘ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اس کے علاوہ 14 نومبر2015ء کو پیرس میں ایک تھیٹر میں جمع 1500 افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 100 افراد ہلاک اور 352 زخمی ہوگئے تھے۔

حالیہ مہینوں میں یورپ میں کئی ایسے حملوں ہوئے جس میں گاڑی کو ہجوم سے ٹکرایا گیا، ان میں سے بیشتر کی ذمہ داری ’داعش‘ کے ساتھ وفاداری ظاہر کرنے والوں نے قبول کی تھی۔

پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پیرس کے جنوب مشرقی مضافاتی علاقے میں واقع ایک مسجد کی حفاظت کے لئے لگائے گئے بیریئرز اور بل بورڈز کے ساتھ اس شخص نے 4x4 گاڑی مسلسل ٹکرائی تھی۔

جس کے بعد اس نے گاڑی بھگائی تاہم اس کو جلد ہی گرفتار کر لیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں