قطریوں کو دہشت گردی کے لیے رقوم بند کرنے کا کہنا نامناسب ہے کیا؟ : اماراتی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روس میں متعیّن متحدہ عرب امارات کے سفیر عمر غباش نے کہا ہے کہ قطر کے دہشت گردی کی حمایت کی سرگرمیوں میں ملوّث ہونے کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں اور جن 59 افراد اور 12 اداروں کو چار عرب ممالک نے دہشت گرد قرار دیا ہے،انھیں امریکا ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے بھی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے اور ان سب کا تعلق قطر سے ہی ہے۔

انھوں نے یہ باتیں امریکی ٹیلی ویژن چینل سی این این کے پروگرام ’’ کونیکٹ دا ورلڈ ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ہیں۔انھوں نے پروگرام کی میزبان بیکی اینڈرسن کے قطر بحران کے حوالے سے مختلف سوالوں کے جواب دیے ہیں۔

ان سے جب قطر کے دہشت گردی میں ملوّث ہونے کے ثبوت فراہم کرنے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے کہا کہ چار ممالک کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں شامل افراد اور اداروں کا تعلق قطر سے ہی ہے۔وہ آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں اور انھیں ابتدائی طور پرقطری حکومت کے مہمان قرار دیا گیا تھا۔ اس مرحلے پر اور مزید کیا ثبوت پیش کیے جاسکتے ہیں۔

انھوں نے قطر کے الجزیرہ نیوز چینل کو بند کرنے کے مطالبے پر اقوام متحدہ کی تنقید سے متعلق سوال کے جواب میں عمر غباش نے کہا کہ ’’یہ مطالبہ واپس نہیں لیا جائے گا اور یہ آزادیِ اظہار کا معاملہ نہیں ہے۔ہم جانتے ہیں کہ قطری حکومت اپنے ہی ملک میں تقریر کی آزادی کی حامی نہیں ہے‘‘۔

جب اینڈرسن نے غباش سے اخوان المسلمون کو دہشت گرد گروپ قرار دینے کے حوالے سے سوال کیا تو انھوں نے کہاکہ ’’ اس جماعت کی ہمارے خطے میں ایک خاص تاریخ ہے۔اس کو خطے کی مختلف حکومتوں نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔مثال کے طور پر روس نے اس کو 2006ء میں دہشت گرد تنظیم دے دیا تھا۔ اس کے فکری بانی سید قطب ہمارے خطے میں دہشت گردانہ تشدد کے باوا آدم ہیں‘‘۔

اماراتی سفیر نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ’’ہمیں امید ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں گے۔ ہم نے 2014ء میں بعض اصول مقرر کیے تھے۔ تب امیر قطر نے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے تھے اور انھوں نے یہ بات تسلیم کی تھی کہ ماضی میں ان سے غلطیاں ہوئی تھیں اور الجزیرہ انتہا پسندی کو فروغ دیتا رہا ہے‘‘۔

ناصر غباش کا کہنا تھا کہ ’’قطر کے خلاف چار ممالک کے مطالبات کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل ہے۔امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن بحران کے حل کے لیے عالمی سفارت کاری کی قیادت کررہے ہیں۔ہمیں اپنے مطالبات کی حمایت حاصل ہے اور اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ ہم انتہا پسندی سے لڑرہے ہیں۔ یہ پورے خطے کا مطالبہ تھا اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اب ہمارے اپنے ہی ایک ملک کے خلاف اجتماعی کارروائی کی جارہی ہے۔ یہ ایک ایسی پیش رفت ہے جس کے بارے میں دنیا کو معلوم ہونا چاہیے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں