مسلمان ممالک پر ٹرمپ کے سفری پابندی کے قانون پرعمل درآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے چھ مسلم ممالک کے شہریوں پر سفری پابندی کے قانون کی جزوی بحالی کے بعد ان افراد پر امریکی ویزوں کے حصول کے لیے نئی شرائط کل جمعرات سے نافذ العمل ہو گئی ہیں۔

ان شرائط کے تحت ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے شہریوں اور تمام پناہ گزینوں کے لیے لازم ہو گا کہ وہ ثابت کریں کہ ان کے قریبی عزیز امریکہ میں مقیم ہیں یا ان کے ملک میں کاروباری روابط ہیں۔ اگر وہ یہ ثابت نہیں کرسکتے تو انہیں امریکا میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

تاہم وہ افراد جن کے پاس پہلے سے امریکی ویزا موجود ہے وہ ان شرائط سے متاثر نہیں ہوں گے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے اس سلسلے میں متعلقہ سفارتخانوں اور قونصل خانوں کو نئی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

ان ہدایات کے مطابق ایسے افراد کو ہی ویزا جاری کیا جا سکے گا جن کے والدین، شوہر یا اہلیہ، بچے، بہو یا داماد یا حقیقی بہن بھائی ہی امریکا میں مقیم ہوں گے تاہم والدین کے بھائی بہن یا اپنے بھائی بہنوں کے بچے قریبی رشتہ دار تصور نہیں کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے پیر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پابندیوں کے قانون کی جزوی بحالی کی منظوری دی تھی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 'بنیادی طور پر اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ (ایگزیکیٹیو آرڈر) ان غیرملکیوں پر لاگو نہیں ہوگا جن کا کسی بھی امریکی شخص یا ادارے سے حقیقی تعلق ہے اور ان افراد کے علاوہ دیگر تمام غیر ملکیوں کو اس حکم نامے پر عمل کرنا ہوگا۔'

سپریم کورٹ کے ججوں کا کہنا ہے کہ وہ رواں سال اکتوبر میں اس بات کا دوبارہ جائزہ لیں گے کہ آیا صدر ٹرمپ کی اس پالیسی کو جاری رہنا چاہیے یا نہیں۔

صدر ٹرمپ کی سفری پابندیوں کے خلاف امریکا بھر میں مظاہرے ہوئے تھے اور جنوری میں صدر ٹرمپ کا ابتدائی حکم نامہ واشنگٹن اور منیسوٹا کی ریاستوں میں منسوخ کر دیا گیا تھا جس کے بعد انھوں نے مارچ میں ایک ترمیم شدہ حکم نامہ جاری کیا جس میں صومالیہ، ایران، شام، سوڈان، لیبیا اور یمن سے لوگوں کا داخلہ ممنوع قرار پایا تھا۔

صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے میں ان چھ مسلم ممالک کے شہریوں پر 90 روز کی سفری پابندی اور پناہ گزینوں پر بھی 120 روزہ پابندی عائد کرنے کو کہا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں