ایرانی جماعتوں نے ٹیلرسن کی ایران میں پُرامن تبدیلی کی اپیل کی حمایت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کو ایران سے تعلق رکھنے والی 111 سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کے کارکنان اورصحافتی تنظیموں کی جانب سے ایک خط موصول ہوا ہے ۔اس میں انھوں نے امریکی وزیر خارجہ کے ایران میں پُرامن جدوجہد کے ذریعےنظام ( رجیم) کی تبدیلی سے متعلق بیانات کی حمایت کی ہے۔

اس خط کے دستخط کنندگان نے کہا ہے کہ ’’ ایرانی ایک آزاد اور جمہوری ملک کی جانب دیکھ رہے ہیں‘‘۔ اس خط کو لندن سے تعلق رکھنے والے اخبار کیہان نے ایک خبری ویب سائٹ ریسرچ اور اینالسیس کے حوالے سے شائع کیا ہے۔

ریکس ٹیلرسن نے ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے روبرو کوئی تین ہفتے قبل بیان دیتے ہوئے کہا تھا :’’ ایران کے بارے میں امریکا کی پالیسی کا مقصد ایرانی بالادستی کوشکست سے دوچار کرنا ،اس کی جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے کوششوں کو ناکام بنانا اور ایران میں نظام کی پُرامن طریقے سے تبدیلی کے لیے حمایت ہے‘‘۔

اس خط پر دستخط کرنے والوں میں مختلف نسلوں اور لسانی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔فارسی بانوں کے علاوہ ترکوں ،کردوں اور عربوں نے خط میں کہا ہے کہ انھوں نے سنہ 2009ء میں اپنے احتجاجی مظاہروں کے دوران میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے احترام کے مطالبات کیے تھے۔ اتفاق سے عین اس وقت براک اوباما نے منتخب ہونے کے بعد پہلی مرتبہ منصب صدارت سنبھالا تھا۔

ایران میں صدارتی انتخابات کے نتائج کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے اور مظاہرین کی امریکا سمیت دنیا بھر میں آواز سنی گئی تھی۔ تاہم دنیا نے ان کی کوئی مدد نہیں کی تھی اور امریکی صدر نے بھی انھیں مایوس کیا تھا۔اس طرح نظرانداز کیے جانے پر وہ امید کا دامن چھوڑ بیٹھے تھے ۔ پھر ایرانی رجیم نے ان کے خلاف سخت انتقامی کارروائیاں شروع کردی تھیں اور سیکڑوں افراد کو مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں جیلوں میں بند کردیا گیا تھا۔

اس خط میں کہا گیا ہے:’’ ایرانی شہری گذشتہ چار عشروں سے ملک میں رجیم کے مظالم کا شکار ہیں۔لاکھوں کو ملک چھوڑنے اور بیرون ملک پناہ لینے پر مجبور کیا گیا ہے۔ہزاروں کو سرعام پھانسیاں دے دی گئی ہیں اور ہزاروں ابھی تک جیلوں میں بند ہیں‘‘۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ ایرانی رجیم نے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری پر کام ، اور دنیا بھر میں دہشت گرد تنظیموں اور مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے‘‘۔

ایرانی جماعتوں اور تنظیموں نے امریکی وزیر خارجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ آپ کے ایران میں پُرامن تبدیلی کی ضرورت اور اس کو ایک آزاد اور جمہوری ملک بنانے سے متعلق حالیہ بیانات سے لاکھوں ایرانیوں کے دلوں میں امید کی ایک کرن پیدا ہوئی ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں