.

ایران : غربت کے مارے عوام یہ حیلہ اپنانے پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی خبر رساں ایجنسیوں اور اخبارات نے ملک میں "خود ایذا دہی" کا رجحان پھیلنے کا انکشاف کیا ہے۔ اس کے تحت دانستہ طور پر یا گاڑی کے کسی مصنوعی حادثے میں ہاتھ یا ٹانگ کی ہڈی کو تُڑوا کر بیمہ انتظامیہ سے زرِ تلافی کی رقم حاصل کی جاتی ہے۔ یہ منظرنامہ ایران میں غربت اور بالخصوص جامعات سے فارغ التحصیل نوجوانوں میں بے روزگاری میں اضافے کے بعد دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ایرانی تنظیم برائے طبِّ شرعی کے سربراہ احمد شجاعی نے روزنامہ "آرمان" کو بتایا کہ "اس سلسلے میں اعداد وشمار میں گزشتہ سال کی نسبت اضافہ ہوا ہے۔ خود ایذا دہی کا رجحان پورے ملک میں پھیل گیا ہے"۔ شجاحی کے مطابق ان کے پاس موجود اعداد و شمار صرف اُن مصنوعی حادثات پر مبنی ہیں جن کا انکشاف ہو سکا لہذا حقیقی اعداد و شمار اعلان کردہ تعداد سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ ایرانی تنظیم کے سربراہ نے بتایا کہ زرِ تلافی حاصل کرنے کے واسطے خود ایذا دہی کے مرتکب افراد میں اکثریت مردوں کی ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں آتش زدگی کے حادثات کا اعلان کیا گیا جن میں شیراز اور اہواز شامل ہیں۔ اس حوالے سے رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ان حادثات میں اکثر دانستہ طور پر واقع ہوئے تھے۔

شیراز کی عدالت کے سربراہ کے بیان کی بنیاد پر یہ بات سامنے آئی کہ شیراز شہر میں "ہائپر مارکیٹ" میں لگنے والی آگ بعض افراد کی جانب سے بیمہ کا زرِ تلافی حاصل کرنے کے واسطے بھڑکائی گئی۔

رواں برس جنوری میں دارالحکومت تہران میں ایک معروف اسٹور کی 15 منزلہ عمارت کی بالائی منزلوں میں آگ لگ گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں 20 سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں زیادہ تر آگ بجھانے والے اہل کار تھے جب کہ ایرانی حکومت نے ابھی تک اس حادثے کی وجوہات کا اعلان نہیں کیا۔