بائیکاٹ سے قطر کو پیغام پہنچانا تھا کہ صبر کا پیمانہ چھلک چکا: الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز ایک مرتبہ پھر "دہشت گردی اور شدت پسندی کے لیے قطر کی سپورٹ" کو مسترد کرنے کے حوالے سے اپنے موقف کو دُہرایا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ قطر کے بائیکاٹ کا مقصد دوحہ کو یہ پیغام پہنچانا تھا کہ "صبر کا پیمانہ چھلک چکا ہے"۔

وزارت خارجہ نے اپنے سرکاری اکاؤنٹ کے ذریعے ایک ٹوئیٹ میں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کے اس بیان کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے 27 جون کو واشنگٹن سے جاری کیا تھا۔ الجبیر کا کہنا تھا کہ قطر کو پیش کیے جانے والے مطالبات پر کوئی بات چیت یا مذاکرات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے باور کرایا کہ سعودی عرب دوحہ کی جانب سے دہشت گردی اور شدت پسندی کی سپورٹ اور مملکت اور خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے کے موقف کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔

عادل الجبیر نے تین روز قبل واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے سے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ "دنیا میں کوئی بھی ریاست شدت پسند تنظیموں اور جماعتوں کی فنڈنگ کو اصولی طور پر قبول نہیں کر سکتی۔ القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروپوں کو تاوان کے طور پر خطیر رقوم کی ادائیگی ناقابلِ قبول ہے۔ اسی طرح قطر کا عراق میں شیعہ ملیشیاؤں کو 30 کروڑ ڈالر ادا کرنا بھی کسی طور قبول نہیں کیا جا سکتا۔ غالبا اس رقم کا بڑا حصہ ایرانی قُدس فورس کے ہاتھوں میں پہنچے گا۔ میرا سمجھتا ہوں کہ دنیا کے زیادہ تر ممالک اس سلسلے کو روکے جانے کے حوالے سے ہمارے موقف کی تائید کریں گے"۔

یاد رہے کہ قطر کا بائیکاٹ کرنے والے ممالک (سعودی عرب ، امارات ، بحرین اور مصر) کی جانب سے اعلان کردہ مطالبات کا جواب دینے کے لیے دوحہ کو ملنے والی مہلت 3 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔ ان مطالبات میں دہشت گردی اور شدت پسند تنظیموں کے لیے قطر کی طرف سے فنڈنگ اور دیگر ممالک کے امور میں دوحہ کی مداخلت کو روکا جانا سرفہرست ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں