.

مصر کا دہشت گردی کے سرپرست ملکوں سے مقابلہ ہے:السیسی

30 جون 2013 کی فوجی بغاوت کے حوالے سے خصوصی پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سابق فوجی سربراہ اور صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ 30 2013ء کو برپا ہونے والا 'انقلاب' دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والےملکوں کے خلاف مزاحمت کا نقطہ آغاز تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ مصر کے بہت سے بہی خواہ برادر ملکوں کے پوشیدہ عزائم کھل کر سامنے آئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 30 جون 2013ء کو عوامی احتجاج کے بعد ملک کے پہلے منتخب صدر کا تختہ الٹ کر اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے والے صدر السیسی نے کہا کہ ’30 جون کا انقلاب مصر کے سرگرم علاقائی کردار کی واپسی کا آغاز ثابت ہوا۔ انقلاب سے قبل اور اس کے بعد ہمیں دہشت گردوں کے پشت پناہی کرنے اور تباہی وبربادی کی مثالیں قائم کرنے والوں سے مقابلہ ہے۔ مصر برادر مسلمان اور عرب ملکوں کے ساتھ مل کر ملک کی خود مختاری، سالمیت، سلامتی اور اداروں کی مضبوطی کے لیے کام جاری رکھے گا۔

فوجی انقلاب کے چار برس مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں صدر السیسی نے کہا کہ پہلے انقلاب کا مقصد مذہبی فاشزم اور مخصوص گروپ کے اقتدار پر قبضے کی کوشش کو ناکام بنانا تھا۔ فوجی انقلاب کے بعد مصر نے خطے میں اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کیا۔ آج مصر کی آواز ہر جگہ سنی جاتی ہے۔ مصری عوام نے زیادہ بیداری اور شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے 30 جون 2013ء کے انقلاب میں حصہ لیا۔ مصری قوم نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کی سیاست مسترد کر دی اور ملک کو ظالم نظام حکومت سے نجات دلانے کے لیے عوام سڑکوں پر نکل آئے۔

مصری صدر کا کہنا تھا کہ مورخین اور ماہرین تیس جون کے انقلاب کے تین اہم اہداف مقرر کریں گے۔ وہ تین اہداف دہشت گردی کے خلاف جنگ، انتہا پسندی کے سہولت کاروں اور معاونین کو ان کے مقاصد میں ناکام بنانا۔ ملک کے روشن مستقبل کے لیے نیا سیاسی روڈ میپ جاری کرتے ہوئے ملک کو بیداری، ترقی اور معشی اصلاحات پر گامزن کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیس جون کے انقلاب نے ثابت کیا ہے کہ مصری قوم نے مذہب کے لبادے میں کسی مخصوص گروپ کی سایسی اجارہ داری کو مسترد کر دیا ہے۔