.

’ایران میں نظام حکومت کی تبدیلی تک داعش کاخاتمہ ممکن نہیں‘

ایرانی اپوزیشن کا ولایت فقیہ کے نظام کے خاتمے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں گذشتہ روز ایرانی اپوزیشن کی نمائندہ کانفرنس میں ملک میں پرامن طریقے سے موجودہ سیاسی نظام کی تبدیلی کے لیے جدو جہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی اپوزیشن کی نمائندہ قومی مزاحمتی کونسل کی چیئر پرسن مریم رجوی نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم ’داعش‘ کے وجود کا خاتمہ تقاضا کرتا ہے کہ پہلے ایران میں موجودہ سیاسی نظام تبدیل کیا جائے۔ جب تک ایران میں ولایت فقیہ کا نظام برسراقتدار ہے تب تک داعش اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ ممکن نہیں۔

پیرس میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم رجوی نے کہا کہ ایران میں مذہبی سیاسی نظام کو ختم کرنے کی جتنی ضرورت اس وقت ہے ماضی میں نہیں تھی۔ ایران میں جمہوری نظام کے قیام اور موجودہ نظام کی تبدیلی کا اب بہترین موقع ہے۔

کانفرنس میں گذشتہ ماہ سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی امریکا۔ مسلم ممالک سربراہ کانفرنس کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس کانفرنس میں ایران کے دہشت گردانہ کردار اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشوں کے بارے میں انتہائی معقول موقف اپنایا گیا ہے۔

مریم رجوی کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری تمام بحرانوں اور داعش جیسے گروپوں سے نمٹنے کے لیے ایران میں فاشسٹ مذہبی نظام کا خاتمہ ضروری ہے۔ یہ کام ایرانی عوام اور تہران کے بہی خواہ ممالک مل کر کرسکتے ہیں۔ انوہں نے ایرانی عوام پر ملک میں تبدیلی کے لیے جاری کوششوں میں قومی مزاحمتی کونسل کا ساتھ دینے کا مطالبہ کیا۔

اپوزیشن رہ نما نے کہا کہ ایران کو خطرہ باہر سے نہیں بلکہ موجودہ ولایت فقیہ کے نظام سے ہے۔ ایرانی حکومت طاقت کے ذریعے عوام کے جائز مطالبات کو دبانے کی روش اپنائے ہوئے ہے۔

’ایرانی رجیم کی تبدیلی کے سوا کوئی چارہ نہیں‘

اقوام متحدہ میں امریکا کے سابق سفیر جون بولٹن نے پیرس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم رجوی کے ملک میں نظام کی تبدیلی کے مطالبے کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں نظام حکومت کی تبدیلی کے سوا اب کوئی چارہ باقی نہیں رہا ہے۔

مسٹر بولٹن نے کہا کہ آٹھ سال کے بعد امریکا کو ایران کے بارے میں سخت موقف رکھنے والا صدر ملا ہے۔ موجودہ صدر[ڈونلڈ ٹرمپ] نے اپنے پیشر باراک اوباما کی نسبت تہران کے بارے میں سخت اصولی موقف اپنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی کانگریس ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیوں کے نفاذ میں کسی قسم کی تاخیر کا مظاہر نہیں کرے گی۔

سابق امریکی سفیر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے تمام مسائل کی جڑ ایران ہے۔ ایران کا طرز عمل بد سے بد تر کی طرف ہے۔ ایران نے عالمی برادری کے ساتھ کیے وعدے ایفاء نہیں کیے۔

نیویارک کے سابق میئر روڈی جولیانی نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ایرانی رجیم خطے اور پوری دنیا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جوہری طاقت بن کر خطے پراپنی بالا دستی قائم کرنا چاہتا ہے۔ ایرانی رجیم کو جوہری ہتھیاروں کےحصول سے ہرصورت میں روکنا ہوگا۔

مسٹر جولیانی کا کہنا تھا کہ ایرانی مزاحمتی کونسل کا ملک میں نظام حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ حق بہ جانب ہے۔ امریکا بھی ایرانی رجیم کو ختم کرنا چاہتا ہے اور اس قاتل نظام سے ایرانی عوام بھی نجات چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حسن روحانی اعتدال پسند نہیں بلکہ اپنی قوم کے لیے وحشی اور قاتل ثابت ہوئے ہیں۔ ان کے دور حکومت میں شہری آزادیوں کو طاقت کے ذریعے کچلا گیا۔