قطر 20سال سے جاری پالیسیاں 20 گھنٹے میں تبدیل نہیں کرے گا: ضاحی خلفان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

دبئی پولیس کے سابق سربراہ ضاحی خلفان نے کہا ہے کہ وہ خلیجی عرب ممالک کے قطر کے ساتھ جاری موجودہ بحران کے فوری حل کے لیے کوئی زیادہ پُرامید نہیں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہم فی الوقت یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ دوحہ کے معاملات کو کون چلا رہا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ضاحی خلفان سوموار کے روز العربیہ نیوز چینل کے حالات حاضرہ کے ایک پروگرام میں قطر کے خلیجی عرب ممالک کے ساتھ جاری بحران کے بارے میں گفتگو کررہے تھے۔

انھوں نے کہا:’’میرے خیال میں قطری عوام یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی قسمت خلیجی بھائیوں کے ساتھ وابستہ ہے جبکہ قطری حکومت ہمسایہ ممالک کے مطالبات کا جواب دینے میں ہچکچا رہی ہے‘‘۔

ضاحی خلفان کا کہنا تھا کہ ’’ان کے خیال میں قطر اپنی سیاست میں تبدیلی لانے میں بنیادی طور پر دلچسپی نہیں رکھتا ہے جبکہ اس کی خارجہ پالیسی ہمسایہ ممالک میں مزاحمت کاری پر اکسانے کی رہی ہے‘‘۔

سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،بحرین اور مصر نے کویتی حکومت کی درخواست پر قطر کو مطالبات کو پورا کرنے کے لیے دی گئی دس روز کی ڈیڈلائن میں اڑتالیس گھنٹے کی توسیع کردی ہے۔ان چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کا بدھ کو قاہرہ میں اجلاس ہوگا اور اس میں مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں قطر کے خلاف آیندہ اقدامات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں