.

کویت کی درخواست پر قطر کو مزید 48 گھنٹے کی مہلت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست کویت کی درخواست پر قطر کا سفارتی بائیکاٹ کرنے والے ملکوں نے دوحہ کو دہشت گردی کی معاونت روکنے سے متعلق پیش کردہ مطالبات پر اپنا موقف واضح کرنے کے لیے مزید 48 گھنٹے کی مہلت دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ امیر کویت الشیخ صباح الاحمد الجابر الصباح نے قطر کو اپنا موقف واضح کرنے کے لیے مزید 48 گھنٹوں کی مہلت کی درخواست کی تھی جس کے بعد بائیکاٹ کرنے والے ممالک نے دوحہ پر سابقہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد نئی پابندیوں کے نفاذ کا فیصلہ موخر کرتے ہوئے قطر کو اڑتالیس گھنٹوں کا اضافی وقت دیا ہے۔ کویت کا کہنا ہے کہ اگلے اڑتالیس گھنٹوں کے دوران قطر عرب ممالک کے پیش کردہ مطالبات پر اپنا موقف واضح کرے گا کہ آیا اسے ان مطالبات پر کس حد تک عمل درآمد کرنا ہے۔

اتوار کی شام کویتی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ قطری وزیرخارجہ الشیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے امیر مملکت الشیخ جابر الاحمد الصباح نے ملاقات کی اور انہیں امیر کویت کی طرف سے ایک مکتوب پہنچایا ہے۔ اس مکتوب میں برادر ملک قطر کی طرف سے گذشتہ ماہ کے آخر میں کویت کے توسط سے ملنے والے مطالبات کا جواب بھی شامل ہے۔ اس حوالے سے کویت نے بائیکاٹ کرنے والے ملکوں کو بھی مطلع کیا ہے جنہوں نے دوحہ کے خلاف مزید پابندیاں عاید کرنے کا فیصلہ اڑتالیس گھنٹوں کے لیے ملتوی کردیا ہے۔

اتوار کی شام قطر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیرخارجہ عبدالرحمان آل ثانی آج امیر کویت کو بائیکاٹ کرنے والے ملکوں کے مطالبات پر دوحہ کے سرکاری موقف سے آگاہ کریں گے۔

خیال رہے کہ دس روز قبل سعودی عرب کی قیادت میں چار عرب ملکوں کی طرف سے قطر کو دی گئی دس روزہ ڈیڈ لائن ختم ہوگئی تھی۔

قبل ازیں قطری وزیرخارجہ نے عرب ملکوں کی طرف سے پیش کردہ مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بائیکاٹ کرنے والے ملکوں سے مشروط مذاکرات ممکن ہیں۔