.

افغانستان میں طالبان کے زیر قبضہ علاقے میں ایرانی ہیلی کاپٹر دیکھے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں طالبان کی بالادستی والے صوبے فراہ میں یکم جولائی کو ایرانی ہیلی کاپٹرز دیکھے گئے ہیں۔متعدد میڈیا ذرائع نے افغان سرحد ی پولیس کے حوالے سےان ایرانی ہیلی کاپٹروں کے فراہ کی سرزمین پر اترنے کی اطلاع دی ہے۔

قبل ازیں افغانستان کے مغربی صوبے ہرات سے تعلق رکھنے والے سکیورٹی ذرائع نے یہ اطلاع دی تھی کہ ایران دو صوبوں ہرات اور فراہ میں طالبان مزاحمت کاروں کو مالی اور فوجی امداد مہیا کررہا ہے۔

افغان سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’’ایرانی حکومت طالبان کو ایسا مفید دشمن سمجھتی ہے جو افغانستان میں امریکی موجودگی کو کمزور کرنے کے لیے ملک کے مفادات کو تقویت بہم پہنچا سکتے ہیں‘‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’’ ایران کے طالبان کے ساتھ حالیہ تعاون کا مطلب افغان حکومت اور عوام کو نظرانداز کرنا ہے۔ایران کے طالبان کے ساتھ قریبی تعاون کے پیش نظر افغانستان امریکا اور نیٹو کے مزید قریب آنے پر مجبور ہوگا‘‘۔

حالیہ ہفتوں کے دوران میں ایسی رپورٹس بھی منظرعام پر آئی ہیں جن میں افغانستان کے شمالی اور مشرقی صوبوں میں بھی ایران کے طالبان کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کی نشان دہی کی گئی ہے جبکہ طالبان تاریخی طور پر ماضی میں شمالی افغانستان میں ہزارہ شیعہ قبائل کی نسلی تطہیر کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ طالبان جنگجوؤں نے 1990ء کے عشرے کے آخر میں نو ایرانی سفارت کاروں کو جاسوسی کے الزام میں قتل کردیا تھا۔اس واقعے کے بعد ایرا ن نے افغانستان کی سرحد کے ساتھ اپنے ہزاروں فوجی تعینات کردیے تھے۔