.

سیکیورٹی کونسل نے خلیجی تنازع میں مداخلت سے انکار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا کہنا ہے خلیجی ممالک کے درمیان حالیہ تنازع متعلقہ ممالک کے درمیان مذاکرات سے ہی حل ہو گا۔ یہ اعلان سیاسی پنڈتوں کی نظر میں بین السطور ایک پیغام کی حیثیت رکھتا ہے جس میں عالمی ادارے نے دوحا کو باور کرایا ہے کہ وہ قطر کا بائیکاٹ کرنے والے ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کے تنازع میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

جولائی کے لئے سیکیورٹی کونسل کی سربراہی چین کر رہا ہے اور اس میں چینی سفیر لیو جی نے کہا ہے کہ ’’حالیہ بحران سے نکلنے کا آئیڈیل طریقہ یہی ہے کہ تنازع میں شریک متعلقہ ملک باہمی مذاکرات اور مشاورت سے ہی اسے قضیئے کو حل کرائیں۔‘‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے نے چینی سفیر کے اس بیان کو پڑھے لکھے انداز میں ایک سفارتی بیان قرار دیا ہے جس میں انہوں نے باور کرایا ہے کہ سیکیورٹی کونسل بحران میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتی۔ مسٹر لیو جی نے مزید کہا کہ ’’ان کا ملک بحران سے متعلق ممالک کی جانب سے کی جانی والی ہر کوشش کو سراہے گا جس سے تنازع کا حل اور اچھی ہمسائیگی کو فروغ ملے۔‘‘

قطری وزیر خارجہ الشیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے جمعہ کے روز بین الاقوامی سیکیورٹی کونسل کے ارکان سے ملاقات کی اور ان سے اپنے ملک سے سعودی عرب، یو اے ای، مصر اور بحرین کے بائیکاٹ سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق الشیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے یو این سیکیورٹی کونسل سے مطالبہ کیا کہ دوحا پر عائد زمینی، فضائی اور سمندری پابندیاں ختم کی جائیں۔