.

’’قطرامریکی اڈے کو من مانی کے لیے ضمانت کے طور پر استعمال کررہا ہے‘‘

قطر اپنے اطوار تبدیل نہیں کرتا تو امریکا اپنا مستقرکہیں اور منتقل کرنے پر غور کرسکتا ہے: سابق سفارت کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے ایک سابق تجربے کار سفارت کار اور مشرقِ وسطیٰ امن عمل کے لیے ایلچی ڈینس راس نے کہا ہے کہ قطر دوحہ میں امریکی فوج کے اڈے کو من چاہی کارروائیوں کے لیے ایک ضمانت کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قطر اپنے طور طریقے تبدیل نہیں کرتا تو امریکا اپنے مستقر کو کہیں اور منتقل کرنے پر غور کرسکتا ہے۔

ڈینس راس فاکس نیوز کے ایک پروگرام میں قطری بحران کے حوالے سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا:’’ وہ (قطری) ہمیں وہاں سے نکال باہر نہیں کریں گے کیونکہ اس مستقر کی وجہ سے ایک جانب تو امریکا انھیں سکیورٹی کی ضمانت دے رہا ہے اور دوسری جانب وہ (قطری) اس کو جو کچھ کرنا چاہتے ہیں ،اس کے لیے ایک لائسنس اور ضمانت کے طور پر استعمال کررہے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ ڈینس راس سابق امریکی صدر براک اوباما کے دو سال تک معاون خصوصی رہے تھے اور وہ قومی سلامتی کونسل کے وسطی ریجن کے لیے سینیر ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔اس کے علاوہ وہ سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے خصوصی مشیر رہے تھے۔وہ بارہ سال سے زیادہ عرصے تک مشرقِ وسطیٰ امن عمل کے لیے امریکی ایلچی رہے تھے۔

انھوں نے فاکس نیوز سے گفتگو میں یہ بھی کہا کہ ’’ ہمیں انھیں یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ ہم اس مستقر کو مزید استعمال نہیں کرنا چاہتے ہیں اور ہم متبادل کی تلاش کے لیے تیار ہیں۔ انھیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر وہ اپنے اطوار تبدیل نہیں کرتے ہیں تو وہ اس بیس ہی کو خطرات سے دوچار کردیں گے‘‘۔

جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا ان کے خیال میں قطر اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانے کو تیار ہے اور کیا وہ انتہا پسند گروپوں کی حمایت سے دستبردار ہوجائے گا تو انھوں نے کہا:’’یہ اس وقت ہی ہوگا جب ہم ان کی سکیورٹی سے متعلق سوال اٹھائیں گے اور انھیں ہمارے ساتھ رہنے کی حقیقی قدر وقیمت کا اندازہ ہوگا‘‘۔