.

لبنانی فوج شامی مہاجرین کو نشانہ نہیں بنا رہی : وزیر داخلہ

شامی مہاجرین کو عالمی ضمانتوں کے بغیر لبنان سے واپس نہیں بھیجا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی وزیر داخلہ نہاد المشنوق نے واضح کیا ہے کہ ان کے ملک کی فوج شامی مہاجرین کو نشانہ نہیں بنا رہی ہے۔انھوں نے العربیہ کے سسٹر چینل الحدث سے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ شامی مہاجرین کے وقار اور سلامتی کو برقرار رکھنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ شام کی سرحد کے نزدیک واقع شہرعرسال میں پانچ خود کش بم دھماکوں کے بعد فوجی کارروائی کی گئی تھی اور لبنانی فوج نے عرسال کے ایک علاقے کو دو سال تک گھیرے میں لیے رکھا تھا۔

انھوں نے لبنانی فوج کی کارروائی کے دوران میں بعض شامی مہاجرین کی حرکات کی مذمت کی ہے اور عرسال میں مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف لبنانی فوج کی کارروائیوں میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی شرکت سے متعلق اطلاعات کی تردید کی ہے۔انھوں نے کہا:’’ عرسال میں حزب اللہ موجود نہیں ہے اور وہاں فوج ہی ایک فیصلہ ساز قوت ہے‘‘۔

لبنانی وزیر داخلہ نے اس بات پر بھی زوردیا کہ ’’ عرسال میں فوجی کارروائی کے بارے میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہیے کیونکہ ہمارے مشن کا مقصد کسی دہشت گرد کو عرسال یا دوسرے علاقوں سے نکلنے سے روکنا تھا‘‘۔

نہاد مشنوق کا کہنا تھا کہ عرسال میں فوجی کارروائی کسی بھی طرح بے گھر افراد اور مہاجرین کے خلاف نہیں تھی بلکہ یہ دہشت گردوں کے خلاف کی گئی ہے اور وہاں شامی شہریوں کے علاوہ تین دہشت گرد تنظیموں کے ارکان بھی موجود ہیں۔

انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ’’ لبنان کسی شامی مہاجر کو بین الاقوامی ضمانتوں کے بغیر واپس نہیں بھیجے گا اور اقوام متحدہ ہی محفوظ علاقوں کا تعیّن کرتی ہے جہاں بے گھر افراد کو بھیجا جاسکتا ہے‘‘۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کےکسی حملے کو روکنے کے لیے تمام ضروری پیشگی حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خفیہ سیل تو دنیا بھر میں کہیں بھی موجود ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے انٹرویو میں بتایا کہ اس وقت لبنان میں قریباً پندرہ لاکھ شامی مہاجرین رہ رہے ہیں اور لبنان میں مقیم کل افراد میں تیس فی صد شامی ہیں۔