ٹرمپ کی برطانوی بچے کےعلاج میں معاونت کی پیشکش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے ایک لاعلاج بیماری کے شکار شیر خوار کے علاج میں معاونت کی پیش کش کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی صدر کی طرف سے یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 10 ماہ کے چارلی گارڈ کے والدین اپنے بچے کو امریکا میں علاج کے لیے لے جانے کی قانونی جنگ قریبا ہار گئے تھے کیونکہ برطانوی سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ مریض بچے کو سفر میں ڈالنے سے اس کی بیماری اور بھی پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ تاہم بچے کے والدین اپنے مطالبے پر مصر رہے اور انہوں نے یورپی یونین کی انسانی حقوق عدالت میں اپیل کی کہ وہ سپریم کورٹ کےفیصلے کو تبدیل کرانے میں مداخلت کرے تاہم یورپی عدالت نے بھی ایسا کرنے سےانکار کردیا تھا۔

لندن کے ایک اسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ چارلی گارڈ کے علاج کا ان کے پاس کوئی حل نہیں اور نہ ہی امریکا میں بچے کی انوکھی موروثی بیماری کا کوئی علاج ہے۔ تاہم اسے تجرباتی ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جاسکتا ہے۔

ان خبروں کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر سرگرم امریکی صدر ’ٹرمپ‘ نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’اگر ننھے چارلی گارڈ کے علاج میں ہماری کسی خدمت کی ضرورت ہے تو ہمیں اپنے برطانوی دوستوں اور پوپ کے لیے بچے کے علاج میں معاونت پر خوشی ہوگی‘۔

خیال رہے کہ چارلی گارڈ ایک انوکھی اور پراسرار بیماری کا شکار ہے۔ آج منگل کو اس کی عمر گیارہ ماہ ہوجائے گی مگر وہ ابھی تک اپنے ہاتھ پاؤں کو حرکت نہیں دے سکتا اور نہ ہی خود سانس لے سکتا ہے۔ اسے مصنوعی آکسیجن سے سانس لینے کی سہولت فراہم کی گئی ہے

بچے کے والدین نے چارلی کے امریکا میں علاج کے لیے فنڈ ریزنگ مہم بھی شروع کی تھی۔ اس مہم کے دوران انہوں نے 83 مخیر حضرات سے 16 لاکھ 80 ہزار ڈالر کی رقم بھی جمع کرلی تھی۔ تاہم برطانوی عدالت نے انہیں بچے کو امریکا لے جانے سے منع کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں