.

امریکی ویزے سے مستثنی ہونے کی کوشش.. اسرائیل کو پھر مُنہ کی کھانی پڑی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کئی برسوں سے اُن ممالک کی فہرست میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا ہے جن کے شہریوں کو امریکا میں داخلے کے واسطے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسرائیلی حکومتیں اپنے سب سے بڑے دوست ملک کی طرف سے اس امتیاز کے حصول کے لیے کوشاں رہی ہیں مگر یہ تمام کوششیں ناکام رہیں اور امریکا نے کبھی اس کی وجہ ظاہر نہیں کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہائٹ ہاؤس میں پہنچنے کے بعد اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر کوشش کی مگر اس بار بھی ناکامی اس کا مقدر بنی۔ اسرائیل کی خاتون نائب وزیر خارجہ نے اس معاملے کی جان کاری حاصل کی تو معلوم ہوا کہ اس امر کے مسترد ہونے کی مرکزی وجہ امریکا کی جانب سے اسرائیلی شہریوں کے فنگر پرنٹ ڈیٹا بینک تک مکمل رسائی کا مطالبہ ہے۔ اسرائیلی حکام کے دعوے کے مطابق اس مطالبے سے عبرانی ریاست میں افراد کے شخصی حقوق سے متعلق مسائل پیدا ہوں گے۔

اسرائیلی نائب وزیر خارجہ کے مطابق امریکی مطالبے کو پورا کرنے کے واسطے اسرائیل میں قانون کو تبدیل کرنا ہوگا اور اس سلسلے میں گزشتہ ہفتے وزارت خارجہ میں قانونی شعبے کے ساتھ ان کی مشاورت بھی ہوئی ہے۔

تاہم اسرائیلی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے پیش کی جانے والی وجہ کے علاوہ بھی دیگر اسباب ہیں جن میں "مسترد شدہ درخواستوں کی شرح" کا مسئلہ شامل ہے۔ ویزے سے مستثنی ممالک کی فہرست میں شامل ہونے کی درخواست کرنے والے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ اُن کے شہریوں کے مسترد ہونے کی شرح کم ہو۔ اسرائیل کا اس حوالے سے ریکارڈ اچھا نہیں ہے کیوں کہ ہر سال اسرائیلی نوجوانوں کی جانب سے امریکا میں داخلے کے لیے دی جانے والی درخواستوں کی بڑی تعداد مسترد کر دی جاتی ہے۔

تیسرا سبب امریکیوں کی جانب سے یہ مطالبہ ہے کہ امریکی شہریت رکھنے والے فلسطینیوں کا تل ابیب کے بِن گوریون ہوائی اڈے کے ذریعے داخلے کو آسان بنایا جائے۔ واضح رہے کہ اسرائیل فلسطینی نژاد امریکیوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ صرف اردن کی سرحد پر واقع ایلنبی گزرگاہ کے ذریعے داخل ہوں۔ اس کا مطلب ہوا کہ پہلے وہ اردن پہنچیں اور پھر اس کے بعد فلسطینی اراضی میں داخل ہوں۔ اسرائیل نے آج تک امریکا کے اس مطالبے کا جواب نہیں دیا۔