.

ایران کا فضائی حدود کُھلی رکھنے پر قطر سے'احسان شناسی' پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جس طرح "حلیف" کا ہاتھ موڑا جاتا ہے اسی طریقے پر ایران نے دوحہ کو "اچھے برتاؤ" کی ضرورت کی یاد دہانی کرائی ہے۔ ایرانی ہوائی اڈوں اور فضائی سِمت شناسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رحمت الہ آبادی نے کہا ہے کہ دوحہ پر لازم ہے کو وہ ایران کے حوالے سے اچھا برتاؤ رکھے تا کہ وہ قطر کے لیے اپنی فضائی حدود کو کھول دے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی اِسنا کو منگل کی شام دیے گئے بیان میں رحمت کا کہنا تھا کہ ایران نے قطری ہوابازی کے لیے اپنی فضائی حدود کھولنے کا ارادہ کیا ہے تا کہ اُس پر مسلط بائیکاٹ کے نتائج میں تخفیف کی جا سکے۔

رحمت کے مطابق تہران نے دوحہ کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ قطر کے ساتھ تعلقات کو وسیع کرنا چاہتا ہے اور اس کے ساتھ قطری فضائی کمپنی کی جانب سے ایرانی فضاؤں کے استعمال کے بدلے کسی قسم کی مالی آمدنی حاصل نہیں کرنا چاہتا"۔

ایرانی ذمے دار نے قطر پر زور دے کر کہا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ بحران کا تصفیہ ہو جانے کی صورت میں بھی وہ دوحہ کے حوالے سے ایرانی موقف اور سپورٹ کو ہر گز نہ بُھولے۔

بائیکاٹ سے دُور ہٹ کر بات کی جائے تو اس پہلے ہی دوحہ یہ اعلان کر چکا تھا کہ وہ تہران کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب، امارات ، بحرین اور مصر نے دہشت گردی کی سپورٹ اور مذکورہ چاروں ممالک کے امور میں مداخلت کے سبب پانچ جون کو قطر کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کر لیے تھے۔ بعد ازاں قطر کو 13 مطالبات پیش کیے گئے۔ ان مطالبات میں دہشت گردی روک دینے اور دہشت گردوں اور شدت پسندوں کو پناہ فراہم کی جانے کی بندش سرِ فہرست ہیں۔

دوحہ کو مطالبات کا جواب دینے کے واسطے 3 جولائی تک کی مہلت دی گئی۔ اس کے بعد مہلت میں 48 گھنٹوں کی توسیع کر دی گئی۔ یہ توسیع کویت کی درخواست پر کی گئی جو خلیجی ممالک کے بحران کے حل کے واسطے ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔