تمیم کی روپوشی اور حمد بن جاسم کا ظہور، دوحہ کے دھوکے کا پول کھل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قطر کا حالیہ بحران بعض ایسے چہروں کو پھر سے منظر عام پر لے آیا ہے جو سیاسی میدان سے تھوڑا دور ہو گئے تھے۔ ان میں سابق امیر حمد بن خلیفہ بھی ہیں جو 2014 میں اپنے بیٹے تمیم کے حق میں اقتدار سے دست بردار ہو گئے تھے۔ امریکی جریدے "فارن پالیسی" میں شائع رپورٹ کے مطابق اس وقت قطر میں حکومت چلانے والی شخصیت تمیم بن حمد نہیں بلکہ ان کے والد حمد بن خلیفہ کی ہے۔

یہ رپورٹ خلیجی امور کے ماہر محقق سائمن ہینڈرسن نے لکھی ہے۔ اس میں دوحہ میں جاری سازشی انتظامات کا انکشاف کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے والد حمد بن خلیفہ کی پوری طاقت کے ساتھ واپسی ہوئی ہے تا کہ وہ حالیہ بحران میں تمام امور کو چلا سکیں۔ اگرچہ خود تمیم بن حمد خلیجی اور عرب مطالبات کا مثبت جواب دینے کا رجحان رکھتے ہیں مگر ان کے والد جو سعودی عرب کے لیے منافرت اور امارات اور بحرین کے خلاف جارحیت کا موقف رکھتے ہیں انہوں نے اِن مطالبات کے حوالے سے سخت گیر رویہ اپنا رکھا ہے۔ اس میں حمد بن خلیفہ کی شخصیت کے نفرت آمیز مزاج اور نسل پرستانہ قبائلی وابستگی کا بڑا ہاتھ ہے۔

علاوہ ازیں امیر قطر تمیم کا مشکوک طور پر روپوش ہو جانا اور میڈیا میں حمد بن جاسم کا گفتگو کے لیے اس طرح نمودار ہونا کہ گویا وہ اپنے وزیر خارجہ اور وزیر اعظم کے سابق عہدوں پر اب بھی براجمان ہیں.. یہ امور فریب کے اُس منصوبے کا پول کھول رہے ہیں جس کا مقصد دہشت گردی کی سرپرستی اور سپورٹ کے ذریعے خطے کے ہر مفاد کے خلاف بغض و عناد رکھنا ہے۔

فارن پالیسی جریدے کے مطابق قبائلی وجوہات اور سینئر شخصیات کے ساتھ برتاؤ کے سبب حمد کو آل ثانی خاندان تک میں کوئی مقبولیت اور اعتماد حاصل نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں