.

افغان پناہ گزین ایران کے اجرتی قاتل کیسے بنتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں ایران میں مقیم افغان پناہ گزینوں کو پاسداران انقلاب کی جانب سے بلیک میل کئے جانے اور انہیں فرقہ وارانہ جنگ کے لیے بھرتی کیے جانے کے لرزہ خیز واقعات کا پردہ چاک کیا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق پاسداران انقلاب افغان پناہ گزینوں کو مالی مراعات کا لالچ دے کر انہیں شام کی جنگ کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے۔ اپنے ملک میں جنگ اور غربت کےباعث فرار ہوکر ایران پہنچنے والے افغان پناہ گزینوں کو ایک ایسے میزبان ملک سے پالا پڑا ہے جو اپنے توسیع پسندانہ پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے افغان پناہ گزینوں کا خون پیش کررہا ہے۔

اخباری رپورٹ کےمطابق جب سے شام میں حکومت کے خلاف عوامی انقلاب کا آغاز ہوا ہے ایران نے بشارالاسد کی بقاء اور اس کے اقتدار کے دفاع کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ ایران نے شامی اپوزیشن کو کچلنے کے لیے نہ صرف اسد رجیم کو تمام جنگی آلات اور وسائل مہیا کیے بلکہ حزب اللہ ملیشیا، افغانستان، پاکستان، عراق اور شیعہ اکثریتی ملکوں سے بڑی تعداد میں اجرتی قاتل بھرتی کرکے شام بھیجے گئے۔

شام میں ایران نے مداخلت کے لیے مقدس مقامات کے دفاع کا بہانا تراشا اور کہا کہ تہران کا شامی حکومت کے ساتھ لینا دینا نہیں۔ وہ تو صرف مقدسات کے دفاع کے لیے سب کچھ کررہا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کی قیادت میں القدس ملیشیا کے نیم سرکاری جنگجوؤں کی بڑی تعداد شام بھیجی گئی۔ سنہ 2014ء کو جنرل سلیمانی کی زیرنگرانی افغان پناہ گزینوں بالخصوص ہزارہ قبیلے کے کارکنوں پر مشتمل ’فاطمیون‘ نامی ملیشیا قائم کی۔ اس وقت اس تنظیم میں 8 سے12 ہزار افغان شامل ہیں۔

ایک افغان پناہ گزین نے امریکی اخبار کو بتایا کہ انہیں فیلق القدس کی طرف سے جنگ کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے۔ ایران میں بیس لاکھ افغانیوں کو مقامی شناختی کارڈ جاری کیے گئے ہیں جب کہ ایک ملین کے قریب افغان پناہ گزین کے طور پر رہ رہے ہیں۔

افغانستان کے صوبہ بامیان کے فولادی نامی گاؤں سے ایران آنے والے عبدول امین نے بتایا کہ اس نے روزگار کے لیے ایران کی طرف ھجرت کی۔ یہاں آنے کے بعد مجھے 10 سال کے لیے عارضی اقامہ جاری کیا گیا مگر مجھے کہا گیا کہ آپ کو شام میں حضرت زینب کے مزار کی حفاظت کے لیے بھیجا جائے گا۔ اس کےعوض آپ کے خاندان کو ماہانہ 800 ڈالر معاوضہ ملے گا۔

’نیویارک ٹائمز‘ نے ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے ایک سابق محقق احمد شجاع کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ایرانی ذرائع ابلاغ شام کی جنگ کو مقدس جنگ کے طور پر پیش کرکے افغان شیعہ برادری کے مذہبی جذبات کو استعمال کررہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شام میں تعینات کیے گئے افغان پناہ گزین کبھی ایران سے باہر نہیں گئے تھے۔ انہیں عربی زبان آتی ہے اور نہ ہی انہیں یہ اندازہ ہے کہ وہ کس مقصد کے لیے یہاں بھیجے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ آئے روز شام میں باغیوں کے ہاتھوں ایرانی ایجنٹوں اور افغان پناہ گزینوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات آتی رہتی ہیں۔ حال ہی میں نصف درجن افغان پناہ گزینوں کو ایران کے شہر مشہد میں دفن کیا گیا، وہ شام میں لڑائی کے دوران ایران کے اجرتی قاتل کے طور پر لڑتےہوئے مارے گئے تھے۔