.

امریکا کی شمالی کوریا کو ’سبق سکھانے’ کی دھمکی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے شمالی کوریا کو میزائل تجربات کے تسلسل پر سنگین نتائج پر تنبیہ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ شمالی کوریا کے خلاف ' فوجی طاقت' استعمال کر سکتا ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ میزائل کے تجربے پر بات کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں امریکی خاتون سفیر نکی ہیلی نے کہا کہ امریکا پیانگ یانگ کے خلاف ایک نئی قرارداد پیش کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے میزائل تجربات پر اس کےخلاف سخت ترین اقتصادی پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں۔

شمالی کوریا نے سلامتی کونسل کی جانب سے عائد کردہ پابندی کے باوجود بین البراعظمی میزائل (آئی سی بی ایم) کا تجربہ کیا تھا۔

سفیر ہیلی نے کہا کہ شمالی کوریا کا ’آئی سی بی ایم‘ کا تجربہ 'بہت تیزی سے کسی سفارتی حل کے امکان کا راستہ بند کر رہا ہے۔‘

انھوں نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے موقعے پر کہا: 'امریکا اپنے اور اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے اپنی مکمل صلاحیت استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

'ہماری صلاحیتیں ہماری خاصی بڑی فوجی طاقت میں ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم انھیں استعمال کریں گے، تاہم ہم اس سمت میں جانے کو ترجیح نہیں دیتے۔'

فرانسیسی سفیر نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ فرانس بھی شمالی کوریا کے خلاف نئی قرارداد کے حق میں ہے، جس سے پابندیاں مزید سخت کی جائیں۔

تاہم روس، جس نے تجربے کی مذمت کی تھی، کہا کہ فوجی کارروائی کو 'خارج کر دنیا چاہیے۔'

ادھر امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلح افواج امریکا کو شمالی کوریا کی طرف سے لاحق خطرات کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہےکہ شمالی کوریا کے بین البرعظمی بیلسٹک میزایل امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے لیے خطرہ ہیں مگر ہم اس خطرے کا تدارک کرنا جانتےہیں۔