.

قطر کا اپنی پالیسیوں کے مضمرات سے انکار تعجب خیز ہے: اماراتی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ قطر کی پالیسیوں کے نتیجے میں بحرین ،سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک کو پہنچنے والے نقصانات سے انکار بہت ہی تعجب خیز امر ہے۔

انور قرقاش نے جمعرات کے روز ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ (قطر کی جانب سے ) سازشوں کے تانے بانے بنے گئے ، ٹیپیں پھیلائی گئیں اور خونریزی کی گئی،ان سب کو کیسے نظرانداز کیا جاسکتا ہے‘‘۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’’ سازشوں کا ایک سیاہ باب ہے مگر اس کے باوجود ہم یہ سن رہے ہیں کہ قطر کے خلاف سب کچھ غلط کیا جارہا ہے‘‘۔ اماراتی وزیر نے قطر کے سفارتی پیغامات کو بھی ’’ الجھاؤ کا شکار‘‘ قرار دیا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ قطریوں کی انگریزی زبان میں کم سے کم دفاعی لکیر ایک مثبت قدم ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اخوان المسلمون اور شام میں القاعدہ سے وابستہ النصر ہ محاذ کی حمایت نہیں کررہے ہیں۔

قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چار عرب ممالک مصر ،سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور بحرین کے وزرائے خارجہ کا بدھ کو قاہرہ میں اجلاس ہوا تھا جس میں ان ممالک کے تیرہ مطالبات کے جواب میں قطر کے سرکاری ردعمل کا جائزہ لیا گیا تھا۔ان ممالک نے مطالبات تسلیم نہ کرنے پر قطر پر کوئی اضافی پابندی تو عاید نہیں کی ہے ۔ البتہ بائیکاٹ کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔اب ان ممالک کا قطری بحران کے حوالے سے آیندہ اجلاس بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ہوگا۔انور قرقاش کا کہنا ہے کہ آیندہ اقدامات کے نتیجے میں قطر کی تنہائی میں مزید اضافہ ہوگا۔