.

امریکا اور روس کا اتوار سے شام میں جنگ بندی کا اعلان

ٹرمپ اور پوتین کے درمیان ملاقات میں شام سمیت مختلف عالمی امور پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور روس نے شام میں اتوار 9 جولائی سے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ روسی وزیرخارجہ سیرگئی لافروف کا کہنا ہے کہ جرمنی میں ’جی 20‘ اجلاس کے موقع پر شام میں جنگ بندی کا اعلان صدر ولادی میر پوتین اور ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی ملاقات میں کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر پوتین کے درمیان جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں جی 20 سربراہ اجلاس کے موقع پر پہلی بالمشافہ ملاقات ہوئی ہے۔اس میں ٹرمپ نے پوتین سے کہا: 'آپ سے ملنا اعزاز کی بات ہے،' جس کے جواب میں پوتین نے کہا: 'مجھے آپ سے مل کر خوشی ہوئی ہے۔'

سوا دو گھنٹے پر محیط ملاقات کے بعد فریقین نے ان موضوعات کی فہرست دی ہے،جن پر بات ہوئی۔ ان میں امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت بھی شامل ہے۔

ملاقات کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹیلرسن کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان شام میں جنگ بندی کے معاملے پر 'ٹھوس' بات ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ شام میں محفوظ زون کے قیام کے لیے اردن کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ موجودہ وقت بشار الاسد کے سیاسی مستقبل پر بات کرنے کا نہیں۔ آئندہ مرحلے میں بشار الاسد کے مستقبل کا فیصلہ بھی کرلیا جائے گا۔

البتہ انھوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ دونوں ملک اس بات پر کبھی اتفاقِ رائے حاصل کر سکیں گے۔ 'میرا خیال ہے کہ صدر کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ ہم فی الوقت اس اختلافِ رائے سے کیسے آگے بڑھیں۔

ادھر اردن کے وزیر مملکت برائے اطلاعات محمد المومنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا روس اور اردن مل کر شام میں جنگ بندی کو عملی شکل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اتوارسے جنوب مغربی شام میں جاری لڑائی روک دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ جنوب مغربی شام میں شامی اپوزیشن اور بشار الاسد کے درمیان تصادم کے مقامات پر فائربندی کی جائے گی اور فریقین پر ایک دوسرے پر حملوں سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے گا۔