.

ایران جرمنی سے تباہ کن اسلحے کے حصول کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کے داخلی سلامتی کے خفیہ ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی رجیم جرمنی سے غیرقانونی طریقے سے میزائل آلات اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔

امریکا کے ’فاکس نیوز‘ ٹی وی چینل پر نشر کی گئی رپورٹ میں جرمن انٹیلی جنس ادارے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایرانی رجیم جرمنی کے ساتھ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حصول کے لیے ڈیل پر غور کررہا ہے۔ ان ہتھیاروں میں میزائل آلات شامل ہیں۔

رپورٹ کےمطابق اس ڈیل میں معاونت کے لیے ایرانی حکومت چین کی ایک کمپنی سے بھی مدد لے رہی ہے۔ جرمن انٹیلی جنس ادارے کی طرف سے ایران کی اس ممکنہ ڈیل کو عالمی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

قبل ازیں گذشتہ ماہ صنعتی جرمن ریاست باڈن ویرٹنبرگ نے ایک 181 صحافت پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ ایران جدید سائنسی آلات، میزائل ٹیکنالونی اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حصول کے لیے سنجیدگی سے کوششیں کررہا ہے۔

جرمن انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے چین کی ایک انجینیرنگ کمپنی کی مدد سے برلن سے دھاتوں سے آلات کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والی پیچیدہ مشینیں خرید کرنے کی کوشش کی تھی تاہم خفیہ اداروں نے حکومت کو اس کمپنی کے ساتھ کسی قسم کمی ڈیل سے روک دیا تھا۔

جرمن حکام کا کہنا ہے کہ عالمی پابندیوں کے باعث تہران براہ راست تو اسلحے کی کسی ڈیل کی پوزیشن میں نہیں مگر وہ تیسرے ملک کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار یا ان کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے آلات خرید کرنا چاہتا ہے۔