.

جی - 20 سربراہ اجلاس میں مرکل اور پیوتن کے بیچ کیا ہوا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن چانسلر اینگلا مرکل کا ستارہ گردش میں نظر آ رہا ہے۔ پہلے تو رواں سال مارچ میں وہائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ساری دنیا کے سامنے میرکل سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا.. اور اب جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں جمعے کے روز جی – 20 سربراہ اجلاس میں مرکل روسی صدر ولادیمر پیوتن کے ساتھ زیادہ بڑی مشکل سے دوچار ہو گئیں۔

اس حوالے سے سامنے آنے والی وڈیو میں پیوتن جی – 20 اجلاس میں مرکل کی جانب سے استقبال کے موقع پر مشتعل نظر آئے۔ دونوں شخصیات کے درمیان کوئی غصے کی حالت میں کوئی بات چیت ہوئی۔ اس دوران روسی صدر نے مضطرب انداز سے اپنے ہاتھ کو اُفقی طور پر حرکت دی۔ بات کرتے ہوئے ان کے چہرے پر غصے کے آثار ظاہر ہو رہے تھے جب کہ مرکل بھی انتہائی تناؤ کی حالت میں نظر آئیں۔

اس منظر نے انٹرنیٹ کے حلقوں کو مجبور کر دیا کہ وہ دونوں شخصیات کے ہونٹوں کی حرکت سے معاملے کا اندازہ لگائیں تاہم کوئی نتیجہ برآمد نہیں کیا کیا جا سکا۔ کسی نے بھی غصے میں ڈوبی اس بات چیت کا راز فاش نہیں کیا جو صرف پیوتن اور مرکل کو ہی معلوم ہے۔

بعد ازاں پیوتن نے پریس کانفرنس میں ایک موقع پر یہ کہنا چاہا کہ مغربی ممالک روس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس کے لیے پیوتن نے روسی زبان کی ایک "بھاری" عوامی ضرب المثل کا استعمال کیا جس کو سُن کر قریب بیٹھی اینگلا مرکل نے قہر آلود نظروں سے روسی صدر کی جانب دیکھا۔

وڈیو کے مطابق اس موقع پر پیوتن کو یوکرین کے بحران کے حوالے سے سوالات کا سامنا تھا جس کے نتیجے میں یورپ کی جانب سے ماسکو پر مسلسل پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔

دوسری جانب جمعے کے روز جی – 20 سربراہ اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے مرکل سے مصافحہ کیا اور ان کے ساتھ یادگاری تصویر بھی بنوائی۔ اس حوالے سے قسمت جرمن چانسلر پر مہربان رہی جو شاید ایک ہی وقت میں دو بڑے قُطبوں ٹرمپ اور پیوتن کے مشتعل ہونے کی متحمّل نہیں ہو سکتی تھیں۔