.

قطر کے بحری جہازوں کا مصر کی بندرگاہوں میں داخلہ ممنوع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی نہر سویز اتھارٹی اور کینال اکنامک زون نے قطر کے بحری جہازوں کو اپنی بندرگاہوں میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔اس نے یہ اقدام قطرکا بائیکاٹ کرنے والے چار ممالک کے فیصلے کی روشنی میں کیا ہے۔

اتھارٹی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ قانون اور مصری خود مختاری کے تحت قطری جہازوں کو مصر کی بندرگاہوں اور علاقائی پانیوں میں داخل ہونے یا گذرنے سے روک دیا گیا ہے۔

تاہم اس فیصلے کا اطلاق جہازوں کی بین الاقوامی آبی گذرگاہوں میں چلنے والے قطری جہازوں پر نہیں ہوگا اور وہ معاہدہ استنبول کے تحت بین الاقوامی پانیوں سے گذر سکتے ہیں۔اس معاہدے پر انیسویں صدی کے اختتام پر دستخط کیے گئے تھے۔اس کے تحت نہر سویز کو ایک عالمی آبی راستہ قرار دیا گیا تھا اور اس کو وہاں سے گذرنے والے عالمی بحری جہازوں کے لیے بند نہیں کیا جاسکتا ہے۔

البتہ مصر کے خلاف اعلان جنگ کرنے والے ممالک کے جہازوں کو نہر سویز میں سے گذرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ نہر سویز اتھارٹی اب قطر سے وابستہ کمپنیوں کے ساتھ کاروباری معاملات ختم کرسکتی ہے۔

مصر کے علاوہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر کا پانچ جون سے بائیکاٹ کررکھا ہے۔اس فیصلے کے تحت آیندہ بھی قطری جہازوں کو نہر سویز کے ساتھ واقع بندر گاہوں اور مصری ریاست کے پانیوں میں داخل ہونے سے روک دیا جائے گا۔