پوپ فرانسیس کا جی 20 طاقتوں کے درمیان’’ خطرناک اتحاد‘‘ پر انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں ہونے والے جی 20 سربراہ اجلاس کے موقع پر بڑی طاقتوں کے لیڈروں کے درمیان خطرناک اتحاد پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں تارکین وطن کے لیے خطرناک مضمرات ہوسکتے ہیں۔

پاپائے روم نے اطالوی اخبار لا ری پبلیکا سے انٹرویو میں کہا ہے کہ’’ مجھے طاقتوں کے درمیان خطرناک اتحادوں پر بہت تشویش لاحق ہے اور یہ دنیا کے مسخ شدہ تصور کے حامل ہیں۔امریکا اور روس ، چین اور شمالی کوریا، روسی صدر ولادی میر پوتین اور شامی صدر بشارالاسد کے درمیان شام میں جنگ پر اتحاد پر تشویش ہے‘‘۔

انھوں نے کہا:’’ ترکِ وطن کے حوالے سے خطرناک تشویش ہے۔ہمارا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ غریب ، کمزور اور بے دخل کیے گئے افراد ہیں۔تارکین وطن بھی ان میں شامل ہیں۔اسی سبب مجھے جی 20 کے بارے میں تشویش لاحق ہے کیونکہ بنیادی طور پر یہ گروپ تارکین ِوطن ہی کو ہدف بناتا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ دنیا کے امیر ترین براعظم یورپ کو اس وقت ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن اور مہاجرین کی جوق درجوق آمد کے مسئلے کا سامنا ہے۔2015ء کے بعد سے جنگ زدہ اور پسماندہ ممالک سے ہزاروں کی تعداد میں افراد نے یورپی ممالک کا رُخ کیا ہے۔بعض ممالک نے ان تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لیے اپنی سرحدیں بند کردی ہیں ۔اس پر پوپ فرانسیس ماضی میں بھی یورپی ممالک کو خبردار کرچکے ہیں۔

انھوں نے جمعہ کو ایک بیان میں جی 20 ممالک کے سربراہوں پر زوردیا تھا کہ وہ پائیدار اور مشمولہ عالمی اقتصادی ترقی کے لیے اقدامات کریں۔انھوں نے افریقا اور یمن میں جنگ اور قحط سے دوچار قریباً تین کروڑ افراد کی حالت زار پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر بھی زوردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں