.

لیبیا کے خلیفہ حفتر کی امارات کی قیادت سے دفاعی تعاون پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی قومی فوج کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر نے متحدہ عرب امارات کی قیادت سے ملاقات کی ہے اور ان سے دفاعی شعبے میں دو طرفہ تعاون پر بات چیت کی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق خلیفہ حفتر نے ابو ظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے دونوں ملکوں کے درمیان انتہا پسندی کے خلاف جنگ اور دہشت گرد تنظیموں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

جنرل خلیفہ حفتر لیبیا کی خود ساختہ قومی فوج کے سربراہ ہیں۔انھوں نے گذشتہ بدھ کے روز ملک کے دوسرے بڑے شہر بنغازی کو جنگجوؤں کے قبضے سے مکمل طور پر آزاد کرانے کا اعلان کیا تھا۔مختلف جنگجو گروپوں نے گذشتہ تین سال سے اس شہر میں اپنی عمل داری قائم کررکھی تھی۔

واضح رہے کہ لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے طوائف الملوکی جاری ہے اور اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں کام کررہی ہیں جبکہ مختلف جنگجو گروپوں نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے۔

متحدہ عرب امارات نے لیبیا کے متحارب فریقوں کو قریب لانے کے لیے قومی اتحاد کی حکومت کے وزیر اعظم فایز السراج اور جنرل خلیفہ حفتر کے درمیان مئی میں مذاکرات کی میزبانی کی تھی۔ خلیفہ حفتر وزیراعظم فایزالسراج کی قیادت میں طرابلس میں قائم حکومت کی عمل داری کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور اس کے بجائے وہ مشرقی شہر بیضا میں قائم حکومت کے اتحادی ہیں۔