.

یمن میں ہیضے کی وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد تین لاکھ سے متجاوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ہیضے کی وبا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن میں اپریل میں ہیضے کی وبا پھوٹی تھی اور اب یہ کنٹرول سے باہر ہوچکی ہے۔

کمیٹی نے سوموار کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں اطلاع دی ہے کہ ’’آج تین لاکھ سے زیادہ افراد بیمار پڑے ہیں اور ایک ہزار چھے سو سے زیادہ ہیضے سے ہلاک ہوچکے ہیں‘‘۔

آئی سی آر سی کے علاقائی ڈائریکٹر رابرٹ مارڈینی کا کہنا ہے کہ یمنی دارالحکومت صنعا اور دوسرے علاقوں میں روزانہ ہیضے کے سات ہزار نئے کیس سامنے آرہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق صنعا پر دوسال قبل حوثی شیعہ باغیوں کے غیر قانونی قبضے کے بعد سے صورت حال زیادہ خراب ہوئی ہے۔جنگ کے نتیجے میں یمن کا شہری اور حکومتی ڈھانچا منہدم ہوچکا ہے۔ آلودہ خوراک اور پانی کے سبب ہیضہ پھیلا ہے اور اب ایک ایسی وبائی شکل اختیار کرچکا ہے جس پر قابو پانا مشکل ہورہا ہے۔

ہیضے کا مرض بیکٹیریا سے پھیلتا ہے اور اس سے متاثرہ ایک شخص سے دوسرے بھی اس مرض کا شکار ہو سکتے ہیں۔یہ مرض قابل علاج ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے لیکن یمن میں اپریل کے بعد سے اب تک اس پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے کیونکہ ملک بھر میں حفظانِ صحت کے نصف ادارے اور اسپتال ناکارہ ہوچکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے اپنے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق یمن کی 23 میں سے 21 گورنریوں میں ہیضے سے 262649 افراد متاثر ہوئے ہیں اور دو جولائی تک 1587 افراد موت کے منھ میں جاچکے تھے۔

واضح رہے کہ یمنی شہریوں کو جنگ کے نتیجے میں خوراک کی قلت کا بھی سامنا ہے۔عالمی خوراک پروگرام کے مطابق ملک کی دو تہائی آبادی یعنی قریباً ایک کروڑ ستر لاکھ افراد کو ایک وقت کی روٹی کھانے کے بعد دوسرے وقت کی روٹی کے بارے میں یہ یقین نہیں ہوتا ہے کہ انھیں وہ دستیاب ہوگی یا نہیں۔اس صورت حال میں اقوام متحدہ اور اس کے تحت امدادی ادارے نان جویں کو ترسنے والے یمنیوں تک بنیادی خوراک پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں لیکن انھیں فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔