.

احمدی نژاد نے اپنے سابق معاون کی گرفتاری کو "بڑا ظلم" قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے مرشد اعلی علی خامنہ ای کے نام ایک کھلے خط میں اپنے ایک سابق معاون حمید بقائی کی گرفتاری پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے ایک "بڑا ظلم" قرار دیا ہے۔

منگل کے روز احمدی نژاد کی ویب سائٹ پر نشر ہونے والے اس خط میں سابق صدر نے عدلیہ حکام کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "بقائی کی گرفتاری پر عدلیہ کی خاموشی اور میڈیا میں ان کو بدنام کیا جانا باعث تشویش امر ہے"۔ احمدی نژاد نے خامنہ ای سے مطالبہ کیا کہ وہ بقائی کی فوری رہائی کے لیے مداخلت کریں۔ سابق صدر نے بقائی کو اپنا بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی سابقہ ذمے داریاں انجام دیتے ہوئے ایرانی عوام کی خدمت کی۔

ایرانی سکیورٹی حکام نے سابق صدر محمود احمدی نژاد کے معاون حمید بقائی کو اتوار کے روز اُن کے گھر کے آگے سے گرفتار کر لیا تھا۔ یہ گرفتاری تہران میں جنرل پراسیکوٹر کی جانب سے جاری وارنٹ کی بنیاد پر عمل میں آئی۔ اس سے قبل جون 2015 میں بھی بقائی 7 ماہ تک زیرِ حراست رہ چکے ہیں۔ اُن پر بدعنوانی اور بڑے پیمانے پر غبن کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔ بعد ازاں بقائی کو مالی ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

بقائی کی گرفتاری گزشتہ ماہ ایرانی حکام کے ہاتھوں احمدی نژاد کے میڈیا مشیر عبدالرضا داوری کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی ہے۔ داوری کو اُن کے فیس بک اکاؤنٹ پر تحریر کیے جانے والے تبصروں کے سبب 3 سال جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ تبصرے نا معلوم افراد کی جانب سے تحریر کیے گئے تھے۔