.

قطر ایئرویز کے سربراہ کی امریکی کمپنیوں کی خواتین میزبانوں پر پھبتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی فضائی کمپنی "قطر ایئرویز" کے سربراہ نے امریکی فضائی کمپنیوں کی خواتین میزبانوں کی عمر کا مذاق اڑایا گیا ہے جس پر امریکی اخبار "دی اکنامسٹ" کی طرف سے شدید ردّ عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

انٹرنیٹ پر ایک بلاگ کے مطابق قطر ایئرویز کے چیف ایگزیکٹو اکبر الباکرآئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں منعقدہ ایک تقریب میں کہا کہ امریکی فضائی کمپنیاں اعلیٰ معیار کی خدمات پیش نہیں کرتی ہیں۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ "ایسی کمپنیوں کے طیاروں میں سفر کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی جہاں آپ کو معلوم ہو کہ خدمت کے لیے (بوڑھی) دادیاں موجود ہوتی ہیں"۔

الباکر کا اشارہ مختلف امریکی فضائی کمپنیوں کی خواتین میزبانوں کی عمر کی جانب تھا۔ الباکر نے باور کرایا کہ "میری فضائی کمپنی میں خواتین میزبانوں کی اوسط عمر 26 برس سے زیادہ نہیں ہے"۔اکبر الباکر کے اس بیان کی وڈیو یوٹیوب پر بھی جاری کی گئی ہے۔

اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے "دی اکنامسٹ" نے لکھا ہے کہ خدمات کے معیار کو خواتین میزبانوں کی عمر سے جوڑنے سے یہ خیال آتا ہے کہ میزبان کا کام محض یہ ہے کہ وہ خوب صورت ہو اور جب وہ اپنی خوب صورتی کو کھو دے تو اسے کسی دوسری خاتون میزبان سے تبدیل کر دیا جائے خواہ وہ اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں کتنی ہی مہارت رکھتی ہو۔

اخبار نے واضح کیا کہ امریکی فضائی کمپنیوں کی جانب سے پیش کردہ خدمات کے معیار میں کمی کی متعدد وجوہات ہیں تاہم اس کو خواتین میزبانوں کی عمر سے نتھی نہیں کیا جا سکتا۔

اخبار نے یہ یاد دہانی بھی کرائی کہ عالمی ادارہ محنت کی جانب سے دباؤ کے کئی برس بعد قطر ایئرویز اپنی خواتین میزبانوں کے ساتھ کام کے معاہدے میں ترمیم پر مجبور ہوئی۔ اس سے قبل تو وہ اپنی خواتین میزبانوں کو حاملہ ہونے اور یہاں تک کہ شادی سے بھی روکا کرتی تھی۔

تاہم الباکر کا کہنا ہے کہ قطر ایئرویز "انتقامی کارروائی" سے دوچار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میں عالمی ادارہ محنت کی ہر گز کوئی پروا نہیں کرتا۔ میں یہاں ایک کامیاب کمپنی چلانے کے لیے ہوں"۔