ایرانی ملیشیا سے وابستہ محقق کو امریکا میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا میں ایران کے سرطان کی تحقیق کرنے والے ایک محقق کو داخلے کی اجازت دینے سے انکار کردیا گیا ہے اور اس کا جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ یہ ایرانی محقق ماضی میں طلبہ پر مشتمل رضا کار نیم فوجی ملیشیا کا سربراہ رہ چکا ہے۔اس کی ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک فوٹیج بھی نشر کی گئی ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر محقق محسن دہنوی کو اپنے بیوی ،بچوں سمیت تہران واپس آتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔انھوں نے ہوائی اڈے پر سرکاری چینل سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے امریکا کے سفر کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ محض سائنس اور تحقیق کے لیے وہاں گئے تھے۔

انھوں نے کہا:’’ہماری تحقیق کا موضوع صحت اور کینسر کا شکار افراد کو اس موذی مرض سے بچانا تھا لیکن انھوں نے ( امریکیوں نے) ہمیں داخلے کی اجازت نہیں دی ہے اور امریکا کی اکیڈیمک کمیونٹی کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایسا کیا گیا ہے‘‘۔

محسن دہنوی ، ان کی بیوی اور تینوں بچوں کو بوسٹن کے لوگان بین الاقوامی ہوائی اڈے پر گذشتہ سوموار کو آمد کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔ان کے پاس اسکالروں کا امریکا جانے کے لیے جاری کردہ ویزا جے ون تھا لیکن پھر بھی انھیں ایک روز کے بعد واپس بھیج دیا گیا تھا۔انھوں نے بوسٹن کے بچوں کے اسپتال میں کام کرنا تھا۔

امریکا کے کسٹمز اور بارڈر پیٹرول کا کہنا ہے کہ اس ایرانی خاندان کو حراست میں لینے کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتظامی حکم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔صدر ٹرمپ کے حکم کے تحت ایران سمیت چھے مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید ہے۔تاہم امریکی حکام نے یہ نہیں بتایا ہے کہ اس ایرانی خاندان کو کیوں واپس بھیجا گیا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی فوٹیج کے مطابق محسن دہنوی وہی شخصیت ہیں جو ایران کی شریف یونیورسٹی میں 2007ء میں باسیج ملیشیا کی طلبہ شاخ کے سربراہ رہے تھے۔باسیج پاسداران انقلاب ایران سے وابستہ ایک رضاکار ملیشیا ہے۔انھوں نے 2013ء میں سابق جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی کی صدارتی مہم میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا لیکن وہ حسن روحانی کے مقابلے میں یہ انتخاب ہار گئے تھے۔

دہنوی نے تہران آمد کے بعد بتایا ہے کہ انھیں اور ان کے خاندان کو بوسٹن میں تیس گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا تھا۔ان کے بہ قول امریکی حکام نے انھیں ایک کمرے سے باہر نکلنے اور کسی کو فون کال کرنے کی بھی اجازت نہیں دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں