سوڈان پر اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے امریکا کے ساتھ مذاکرات معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سوڈان کے صدر عمر البشیر نے اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے امریکا کے ساتھ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ سوڈان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ اعلان واشنگٹن کی جانب سے 20 برس سے عائد پابندیوں میں تین ماہ کی توسیع کیے جانے کے بعد بدھ کے روز سامنے آیا ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ البشیر کی جانب سے جاری فیصلے میں امریکا کے ساتھ بات چیت کرنے والی مذاکراتی کمیٹی کو 12 اکتوبر 2017 تک معطل کر دیا گیا ہے۔

مذکورہ کمیٹی 1997 سے خرطوم پر عائد پابندیوں کو اٹھوانے کی کوشش میں ایک برس سے امریکی ذمے داران کے ساتھ مذاکرات کر رہی تھی۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "اگر سوڈانی حکومت نے اپنی مثبت کارروائیاں بالخصوص سوڈان میں تنازع کے علاقوں میں دشمنانہ کارروائیاں روک دینے کو برقرار رکھا ، انسانی امداد کے پہنچنے کو بہتر بنایا اور علاقائی تنازعات اور دہشت گردی سے نمٹنے میں امریکا کے ساتھ تعاون جاری رکھا تو ایسی صورت میں پابندیوں کو مکمل طور پر اٹھا لیا جائے گا"۔

دوسری جانب سوڈانی وزیر خارجہ ابراہیم غندور نے بدھ کے روز اُس امریکی فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے جو سوڈان اور امریکا کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پابندیاں حتمی صورت میں اٹھا لی جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں