.

ٹیلرسن خلیج بحران پر بات چیت کے بعد قطر سے لوٹ گئے ،پیش رفت ندارد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن خلیجی عرب ممالک کے دورے کے بعد جمعرات کے روز دوحہ سے واپس روانہ ہوگئے ہیں۔ انھوں نے قطر اور اس کا بائیکاٹ کرنے والے چار عر ب ممالک کے حکام سے بات چیت کی ہے لیکن وہ لوٹتے ہوئے خلیجی بحران کے حل کے لیے ہونے والی ممکنہ پیش رفت کے بارے میں بول کے نہیں دیے۔

ٹیلرسن نے آج دوحہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کی ہے مگر اس کے بعد صحافیوں کے سوالوں کا جواب دینے سے انکار کردیا ہے۔انھوں نے بدھ کے روز جدہ میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چار ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں تھیں اور ان سے گذشتہ ایک ماہ سے جاری خلیج بحران کے حل کے لیے بات چیت کی تھی۔

امریکی وزیر خارجہ نے خلیجی ممالک کے اس دورے میں سوموار کو سب سے پہلے قطر اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الصباح سے ملاقات کی تھی اور ان کا نقطہ نظر سنا تھا۔ پھر وہ منگل کو قطر گئے تھے جہاں انھوں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے سے متعلق ایک سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔ اس کے تحت قطر نے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر مشترکہ کوششوں سے اتفاق کیا تھا۔

تاہم ان کی بدھ کو جد ہ آمد سے چندے قبل چاروں عرب ممالک سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، مصر اور بحرین کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں اس سمجھوتے کو ناکافی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے ان کے تحفظات دور نہیں ہوں گے۔انھوں نے دہشت گردی کے مالی معاونت کی روک تھام کے لیے امریکا کی کوششوں کا خیرمقدم کیا تھا اور اپنے اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ قطر ان کے تیرہ جائز اور قانونی مطالبات کو پورا کرے۔

انھوں نے مشترکہ بیان میں اپنے اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ ان کے اقدامات قطری حکام کی جانب سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت ، حمایت اور انھیں پناہ دینے کا ردعمل ہیں۔مذکورہ چاروں ممالک نے قطر پر خطے میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دینے کے الزامات عاید کیے ہیں۔ وہ قطر پر عرب ریاستوں کے داخلی امور میں مداخلت اور خطے کی سلامتی اورامن کو خطرات سے دوچار کرنے کے بھی الزامات عاید کررہے ہیں جبکہ قطر ان الزامات کی صحت سے انکار کرتا چلا آرہا ہے۔