.

القرضاوی کی بیٹی اور داماد کی مدت حراست میں توسیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے پراسیکیوٹر جنرل نے سرکردہ مصری نژاد قطری مذہبی رہ نما علامہ یوسف القرضاوی کی صاحبزادی علاء القرضاوی اور ان کے شوہر حسام الدین خلاف کی مقدمہ 316 کے تحت جاری تحقیقات کے لیے مزید پندرہ دن تک پولیس کی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

ملزمان کے وکیل احمد ابو العلا ماضی نے بتایا کہ اپوزیشن جماعت الوسط کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور یوسف القرضاوی کے داماد کو ان کی اہلیہ سمیت 15 دن تک پولیس کی تحویل میں زیرتفتیش رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ دونوں پر کالعدم مذہبی سیاسیی جماعت اخوان المسلمون سے تعلق اور جماعت کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ مصر میں حکام نے دو ہفتے قبل معروف مذہبی اسکالر اور دہشت گردی کی فہرست میں شامل شخصیت یوسف القرضاوی کی بیٹی علا القرضاوی اور داماد حسام الدین خلف کو گرفتار کیا تھا ۔ یہ گرفتاری اُس وقت عمل میں آئی جب دونوں افراد شمالی ساحل پر مصر کے ایک سیاحتی مقام پر موجود تھے۔

قرضاوی کی بیٹی اور داماد کو تحقیق کے لیے اسکندریہ شہر کی استغاثہ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ دہشت گرد جماعت میں شمولیت اور الاخوان المسلمین کی فنڈنگ اور سپورٹ کے الزامات ہیں۔ استغاثہ نے علا اور اس کے شوہر کو پوچھ گچھ کے واسطے 15 روز تک حراست میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ پندرہ روز کے بعد ان کی مدت حراست میں مزید پندرہ دن کی توسیع کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق علا قرضاوی کئی برس سے قاہرہ میں قطر کے سفارت خانے میں ملازمت کر رہی ہے اور اس کے پاس مصر کے علاوہ قطر کی شہریت بھی ہے۔

یاد رہے کہ یوسف القرضاوی کی چار بیٹیاں ارو تین بیٹے ہیں۔ سب سے بڑی بیٹی الہام نے لندن یونی ورسٹی سے طبیعیات کی تعلیم حاصل کی۔ دوسری بیٹی سہام نے بھی ایک برطانوی یونی ورسٹی سے کیمیاء کی تعلیم حاصل کی۔ تیسری بیٹی علا (جو مصر میں گرفتار کی گئی ہے) نے امریکا میں ٹیکساس یونی ورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کی جب کہ چوتھی بیٹی اسماء برطانیہ کی ناٹنگھم یونی ورسٹی سے فارغ التحصیل ہے۔

یوسف القرضاوی کا بڑا بیٹا محمد قطر میں پیدا ہوا اور اس نے امریکا میں تعلیم حاصل کی۔ دوسرے بیٹے اسامہ کی پیدائش بھی قطر میں ہوئی اور اس نے بھی امریکا سے تعلیم مکمل کی۔ تیسرا بیٹا عبدالرحمن قطر میں پیدا ہوا اور وہ واحد اولاد ہے جس نے قطر میں شریعہ کالج میں حاصل کی۔