.

ایران میں 28 ہزار افراد کے بیرون ملک سفر سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی رجیم کی جانب سے اپنے شہریوں کے بیرون ملک سفر پر پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران 28 ہزار فراد کو بیرون ملک سفر سے روکا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی پراسیکیوٹر جنرل محمد جعفر منتظری نے ایک بیان میں بتایا کہ عدلیہ نے گذشتہ ایک سال کے دوران اشتہاریوں کا بیرون لک فرار روکنے کے لیے 27 ہزار 820 افراد کو بیرون ملک سفری دستاویزات جاری کرنے سے روکا۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق عدالتوں کی طرف سے تجارتی پابندیوں کے شکار افراد کے ساتھ لین دین پر بھی پابندیاں عاید کی گئی اور 9 ہزار 173 افراد کے ساتھ تجارتی لین دین پر پابندی عاید کی گئی۔

اگرچہ ایرانی پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کے بیرون ملک سفر پرپابندی کی وجوہات بیان نہیں کی گئیں تاہم بیان میں اس جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ بیرون ملک سفر سے روکے گئے بیشتر افراد بنکوں سے حاصل کردہ قرض کے نا دہندہ ہیں۔

مسٹر منتظری کا کہنا ہے کہ ایران کا مرکزی بنک قرض نادہندہ افراد کی فہرستیں جاری کرتا رہتا ہے۔ بنک کی جانب سے انتظامیہ کو قرض نادہندگان کےبارے میں مطلع کیا جاتا ہے ساتھ ہی انتظامیہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ قرض واپس نہ کرنے والے افراد کے بیرون ملک سفر پر پابندی عاید کریں۔

خیال رہے کہ ایران میں بنکوں سے قرض کا حصول اور اس کی عدم ادائی معمول کی بات ہے۔ ایرانی بنکوں سے پاسداران انقلاب، فوج اور دیگر با اثر اداروں سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کے مقربین بھاری رقم بہ طور قرض حاصل کرتے ہیں مگر ان کی واپسی میں تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں۔