.

قبائل اور سیاست دان؛ بغداد اور دمشق تک براہ راست ایرانی رسائی کا راستہ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں امریکی وار سٹڈی سینٹر کی طرف سے داعش کے تسلط سے آزاد کرائے گئے عراقی شہر موصل کا ایک نقشہ جاری کیا گیا جس ساتھ ساتھ لکیروں اور سیاہ نقاط کی شکل میں ایک دوسرا نقشہ جاری کیا گیا۔ اس نقشے میں سنہ 2014ء کے بعد داعش کے تسلط میں آنے والے علاقوں کی نشاندہی کی گئی۔ ساتھ ہی عراقی اور امریکی حکام کی طرف سے موصل کی داعش کے چنگل سے آزادی کو تاریخی لمحہ قرار دیا گیا۔

بین الاقوامی فوجی اتحاد کے سربراہ جنرل ٹاؤنسنڈ نے پیںٹاگون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موصل کے حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ تمام عراقی فریقین موصل کے مستقبل کے حوالے سے یکساں سیاسی موقف اختیار کریں۔

داعش کے خلاف سنہ 2015ء کے بعد سے جاری جنگ کی نگرانی کرنے والے آشٹن کارٹن نے اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں شائع ایک مضمون میں لکھا کہ عراق میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے نتائج کے حوالے سے دوسری سیاسی اور اقتصادی مہمات کی نسبت داعش کے خلاف حالیہ جنگ میں تشویش کا پہلو کم ہے۔

سابق امریکی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اگرچہ موصل کو داعش سے چھڑا لیا گیا ہے مگر عراقی عوام پیش آئند حالات سے مطمئن نہیں۔ افراتفری اور انتہا پسندی ایک بار پھر عراق میں واپس آسکتی ہے۔

جنرل ٹاؤنسنڈ اور آشٹن کارٹر کا تجزیہ بغداد اور دوسرے علاقوں کا دورہ کرنے والے غیر سرکاری ماہرین کے براہ راست مشاہدے کا نتیجہ ہے۔

امریکن پیس انسٹیٹیوٹ کے مڈل ایسٹ پروگرام کے ڈائریکٹر حمہ سعید نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عراق اس وقت دنیا کے نقشے پر موجود ہے اور اس کی بقاء بیرونی حلقوں کے مفاد میں شامل ہے‘ تاہم انہوں نے عراق کی داخلی صورت حال کو انتشار زدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عراق کے مختلف دھڑوں میں وسیع پیمانے پر اختلافات اپنی جگہ موجود اور برقرار ہیں۔

عراقی معاشرے کے مختلف اجزائے ترکیبی

امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ عراق میں مختلف متحارب دھڑوں میں پائی جانے والی تقسیم اور خونی خانہ جنگیاں ہر دھڑے کو اپنے دفاع اور اپنی بقاء پر مجبور کررہی ہیں۔ ان میں سے ہر دھڑا اور گروپ خود کو عراق کا ایک مستقل عنصر باور کرتا ہے، مگر ہر دھڑے کا موقف دوسرے سے جدا اور الگ ہے۔

مسلکی اعتبار سے عراق میں شیعہ خود کو ملک کی غالب اکثریت تصور کرتے ہیں اور ملک میں حکومت کو اپنا حق گردانتے ہیں۔ اہل تشیع کا ایک گروپ اہل سنت مسلک کے ساتھ طاقت آزمائی کا قائل ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے۔

اسی طرح اہل تشیع اور کرد آبادی کے درمیان کشیدگی بھی عراقی سماج کا حصہ بن چکی ہے۔ امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرد فوج البیشمرگہ اور شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی طوز خرماتون جلولا، الحویجہ اور سنجار سمیت کئی مقامات پر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہ چکے ہیں۔

جہاں تک کردوں کی طرف امریکا کے جھکاؤ کی بات ہے تو اس کا انحصار کردوں کی علاحدگی پسندگی کی کوششوں پر ہے۔ کردوں کا خیال ہے کہ ان کے پاس عراق سے علاحدگی کا بہترین موقع ہے۔ اگرچہ وہ کئی ایک مواقع گنوا بھی چکے ہیں۔ سنہ 1991ء اور 2003ء میں آزاد کردستان کے اعلان کے لیے ان کے پاس مواقع تھے۔ جنہیں ضائع کردیا گیا مگر اب مزید موقع ضائع کرنے کی گنجائش نہیں ورنہ ان کی جدو جہد کئی سال مزید طول پکڑ سکتی ہے۔

امریکی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی اور عراقی کرد فوج کے درمیان لڑائی اپنی انتہا کو پہنچ سکتی ہے۔

امریکیوں کی توجہ عراق میں سنی مسئلے سے نمٹنے پر مرکوز ہے کیونکہ داعش اور القاعدہ کمانڈر ابو مصعب الزرقاوی نے اہل سنت مسلک کے لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ عراق میں صدام حسین کا تختہ الٹ کر عراقی قوم پر ظلم کیا گیا۔ اس لیے ما بعد صدام عراقی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا عراق کے سنی مسلمانوں کا حق ہے۔ نوری المالکی کی طرف سے عراق کے سنی اکثریتی علاقوں پر فوج کشی نے داعش کو فائدہ پہنچایا۔ امیرکی جنرل ٹاؤنسنڈ کا کہنا ہے کہ داعش جنگجو خود کو سنی علاقوں میں چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ چھوٹے چھوٹے گوریلا گروپوں کی شکل میں سرگرم رہنا چاہتے ہیں۔

ایرانی پلان اور الحشد الشعبی

موصل کی داعش سے آزادی ایک اچھی خبر ہے مگراس کے بعد موصل کو درپیش چیلنجز کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سب سے بڑا چیلنج موصل میں استحکام اور دیر پا امن کا قیام ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب عراقی حکومت اور موصل کے سرگرم دھڑے فرقہ وارانہ تقسیم سے بالا تر ہو کر یکجا ہو جائیں۔ مگرایسا کوئی جامع پلان دکھائی ںہیں دیتا۔ البتہ موصل میں ایران اوراس کی پروردہ الحشد الشعبی کے منصوبے آشکار ہوچکے ہیں۔

امریکی الحشد الشعبی کو دو گروپوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ان میں ایک گروپ علی السیستانی سے قربت رکھتا ہے جب کہ دوسرے دھڑے کو ایران کی طرف سے براہ راست معاونت حاصل رہی ہے۔ ایرانی حمایت یافتہ گروپ زیادہ پرتشدد اور سخت گیر ہے۔ الحشد کے اسی گروپ کے عناصر موصل کے سنی اکثریتی علاقوں پر اپنا غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایران نے اس مقصد کے لیے دو روس پلان کی تیاری بھی شروع کردی ہے۔

حال ہی میں عراق کا دورہ کرنے والے امریکی ماہرین نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الحشد الشعبی کے جنگجوؤں کی بھاری تعداد کا موجود رہنا متوقع ہے۔ الحشد الشعبی نے سنی قبائل کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ سنی نوجوانوں کو اسلحہ اور تنخواہوں کا لالچ دیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ الحشد نے پیش آئند انتخابات کے لیے موصل کے سنی قبائل سے سیاسی اتحاد کی کوششیں بھی تیز کردی ہیں۔

امریکیوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ الحشد الشعبی ملیشیا ایرانی پاسداران انقلاب کے اشاروں پر چلتے ہوئے سنی خاندانوں کی ایک سے دوسرے مقامات پر منتقلی بالخصوص سنجار اور تلعفر میں آباد کرنے کی پالیسی اپنا سکتی ہے۔ شام کی سرحد پر بھی الحشد الشعبی ملیشیا کی بڑی تعداد تعینات ہے جس کے بعد تہران سے بغداد اور وہاں سے دمشق تک ایران کو براہ راست رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔ ایران اپنا فوجی اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے مستقبل میں عراق یا شام میں حکومت کے خلاف اٹھنے والی کسی بھی تحریک کو دبا سکتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی رجیم قبائل، سیاسی رہ نماؤں کو ساتھ ملانے کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دے کر براہ راست دمشق تک رسائی چاہتا ہے۔ سیاسی رہ نما، قبائل اور فرقہ واریت تہران سے بغداد دمشق روڈ کا کرادار ادا کرسکتی ہے۔