.

ایران سے انسانی حقوق کے گروپوں کو قیدیوں تک رسائی دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہیومن رائٹس واچ نے ایران سے انسانی حقوق کے گروپوں کو قیدیوں تک رسائی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے یہ مطالبہ ایران کی جانب سے غیرملکی سفارت کاروں کو ایوین جیل میں پنیتالیس منٹ کے لیے جانے کی اجازت دینے کے بعد کیا ہے۔ دارالحکومت تہران کے نواح میں واقع اس جیل میں ایران کی سرکردہ سیاسی شخصیات قید ہیں۔

ایچ آر ڈبلیو کا کہنا ہے کہ سیاسی قیدیوں کو ان کے خلاف ڈھونگ مقدمات کی سماعت کے بعد سے کسی سفارت کار سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

دوسری جانب ایران کی اعلیٰ کونسل برائے انسانی حقوق کے خارجہ امور کے نائب کاظم غریب عبادی نے کہا ہےکہ ’’ دورے کے بعد بعض مغربی حکومتوں اور میڈیا نے ہماری جیلوں کی حالت سمیت انسانی حقوق کے بارے میں جھوٹے دعوے کیے تھے‘‘۔

ایران کے ایک سابق سیاسی قیدی تقی رحمانی نے ریڈیو فردا سے گفتگو کرتے ہوئے غیر ملکی سفارت کاروں کے حکومت کے تحت جیل کے دورے کو تعلقات عامہ کا ایک حربہ قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ اس طرح کی ملاقاتوں کا خود ساختہ انداز میں اہتمام کیا جاتا ہے۔ان کی ایک کمرے میں چند ایک چنیدہ قیدیوں سے ملاقات کرائی جاتی ہے‘‘۔تقی رحمانی تیرہ سال تک جیل میں قید رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کی ملکی اور بین الاقوامی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے تحقیق کاروں کی ایک عشرے تک ایوین جیل میں داخلے پر پابندی عاید رہی ہے۔اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے جبری حراست اور خصوصی نمائندہ برائے آزادیِ اظہار نے آخری مرتبہ سنہ 2003ء میں ایران سے اس جیل میں جانے کی اجازت طلب کی تھی۔