.

فرانس : خلیج بحران کے حل کے لیے کویت کی مصالحتی کوششوں کی حمایت کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں وائی ویس لی دریان نے خلیج بحران کے حل کے لیے اپنے ملک کی جانب سے کویت کی مصالحانہ کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہییں۔

العربیہ نیوز چینل کے رپورٹ کے مطابق انھوں نے ہفتے کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ سے جاری کردہ ایک بیان میں دہشت گرد گروپوں کے خلاف جنگ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ فرانس قطر اور چار عرب ممالک کے درمیان جاری بحران کے خاتمے کے لیے کویت کی ثالثی کی کوششوں میں معاونت کرنا چاہتا ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے دوحہ میں اپنے قطری ہم منصب شیخ محمد بن عبدالرحمان سے بحران کے حل کے سلسلے میں بات چیت کی ہے۔اس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ فرانس کو مصالحتی کوششوں میں سہولت کار ہونا چاہیے‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’’فرانس کو قطر اور اس کے ہمسایہ عرب ممالک کے درمیان تعلقات میں اچانک بگاڑ پر گہری تشویش لاحق ہے اور اب فرانس ان تمام ممالک سے مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کررہا ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ فرانس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قطر کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتا ہے اور خاص طور پر دہشت گردی کے لیے رقوم کی منتقلی کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے گا۔

اس موقع پر ان کے قطری ہم منصب شیخ محمد بن عبدالرحمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے اور اس کا تمام وزن کسی ایک ریاست کے کاندھوں پر نہیں ڈالا جاسکتا۔

لی دریان نے قطر اور سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے خلیج کے دورے کے پہلے مرحلے میں ہفتے کے روز دوحہ کا دورہ کیا ہے۔ انھوں نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے بھی ملاقات کی ہے اور اس کے بعد وہ سعودی عرب روانہ ہوگئے۔

ان سے قبل امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن نے کویت ،قطر اور سعودی عرب کا چار روزہ دورہ کیا تھا اور انھوں نے بحران کے حل کے سلسلے میں متعلقہ ممالک کے عہدہ داروں سے بات چیت کی تھی لیکن ان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی اور وہ کسی اعلان کے بغیر جمعرات کے روز امریکا لوٹ گئے تھے۔