.

اختلاف کے باوجود،"اسرائیل کے مفاد" نے روس اور امریکا کو اکٹھا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی میڈیا ایجنسی نے پیر کے روز وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس اور امریکا شام میں سیف زونز کے قیام کے حوالے سے اسرائیل کے مفادات کو زیر غور رکھنے کے خواہاں ہیں۔

دونوں بڑی طاقتیں شام میں بہت سے امور پر اختلاف رکھتی ہیں تاہم اسرائیل کا مفاد دونوں کے درمیان باعث اتفاق رہا۔ لاؤروف کی یہ بات اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو کے پیرس میں اتوار کو رات گئے دیے گئے بیان کے جواب میں سامنے آئی ہے۔ نیتنیاہو کا کہنا تھا کہ یہ انتظامات شام میں ایرانی وجود کو مضبوط بنائے گا اس لیے اسرائیل اس کی یکسر مخالفت کرتا ہے۔

نیتنیاہو کی جانب سے اعلانیہ اعتراض اسرائیلی وزیر اعظم کی حیثیت سے ایک غیر مانوس امر ہے جو شام کے حوالے سے ماسکو یا واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی ٹکراؤ سے اجتناب کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے دسمبر 2016 میں 35 روسی سفارت کاروں کو ملک سے نکل جانے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس فیصلے کی وجہ نومبر 2016 میں امریکی صدارتی انتخابات کی مہم میں روس کی مداخلت بتائی گئی جب کہ روس اس مبینہ مداخلت کی مکمل طور پر نفی کرتا ہے۔

ماسکو کے مطابق بہت سے امور کا انحصار واشنگٹن میں پیر کو کسی وقت روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف اور امریکی وزارت خارجہ کے سکریٹری تھامس شینن کے درمیان ہونے والی ملاقات کے نتائج پر ہے جس میں حالیہ جاری سفارتی اختلاف زیر بحث آئے گا۔