.

ایرانی عدالت سے امریکی شہری کو جاسوسی کے الزام میں 10 سال قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی ایک انقلاب عدالت نے دوہری شہرت رکھنے والے ایک امریکی شہری ژی یو وانگ کو جاسوسی کے الزامات پر 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

اتوار کے روز ایران کی جوڈیشل کونسل کے ترجمان غلام حسین محسنی ایجی نے بتایا کہ دوہری شہریت کا یہ مقدمہ سیکیورٹی کے الزامات پر قائم کیا گیا تھا۔

ترجمان نے سزا پانے والے شخص کا نام ژی یو وانگ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ شخص امریکی شہری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اور ملک کا بھی شہری تھا لیکن وہ ملک ایران نہیں تھا۔

ترجمان غلام حسین محسنی نے ریاستی ٹیلی وژن پر کہا کہ یہ شخص معلومات اکھٹی کر رہا تھا اور اسے امریکا سے براہ راست راہنمائی مل رہی تھی۔ ملزم غیرملکی ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے تہران مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھا جس پر اسے 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، لیکن اس سزا کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔

ایرانی جوڈیشل کونسل نے سزا پانے والے ملزم کا اگرچہ نام نہیں بتایا تاہم اغلب یہ ہے کہ ملزم ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سابق رکن ہیں اور ان کی شناخت غلام رسول دری اصفہانی کے نام سے کی گئی ہے۔ ان کے پاس امریکا اور کینیڈا کی دہری شہریت کے ساتھ ساتھ ایرانی شہریت بھی ہے اور انہیں گذشتہ برس 16 اگست کو حراست میں لیا گیا تھا۔

ایرانی ارکان پارلیمان اور حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اصفہانی کی گرفتاری کے بعد جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کرنے والے مزید جاسوسوں کی نشاندہی جلد کی جائے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ایک برس کے دوران ایرانی حکومت نے دہری شہریت رکھنے والے 40 اہم عہدیداروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا تھا۔ ان میں غلام رسول دری اصفہانی بھی شامل ہیں جو ایران کی سابق مذاکراتی کمیٹی میں شامل رہ چکے ہیں۔