.

’دو ریاستی حل‘ کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لائیں گے:فرانس

’جوہری معاہدے پر ایران کے عمل درآمد سے با خبر ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر ایمانویل میکروں نے فلسطینی قیادت اسرائیل پر براہ راست مذاکرات بحال کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فرانس تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیےفریقین کو حتمی سمجھوتے تک پہنچانے کی خاطر تمام کوششیں بروئے کار لائے گا۔

فرانسیسی صدر نے ان خیالات کا اظہار اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے ساتھ ملاقات کے بعد پیرس میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔

صدر میکروں کا کہنا تھا کہ ’فرانس تنازع فلسطین کے حل کے لیے آج بھی بھرپور سفارتی کوششیں کرنے کے لیے تیار ہے‘ ۔ ان کا کہنا تھا کہ پیرس تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل پریقین رکھتا ہے۔ فلسطین اور اسرائیل دو خود مختار ریاستیں جو اپنی مخصوص اور محفوظ سرحدوں کے اندر قائم کی جائیں اور القدس کو فلسطینی ریاست کے دارالحکومت کے طورپر تسلیم کیا جائے کی حمایت جاری رکھےگا۔

فرانسیسی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیرس ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر چھ مغربی طاقتوں کے ساتھ طے پائے معاہدے کے حوالے سے بیدار ہے۔ ہم معاہدے کی شرائط پرایران کی جانب سے عمل درآمد پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

صدر ایمانویل میکروں نے کہا کہ ایرانی رجیم سے ہمیں بھی تشویش لاحق ہے۔ توقع ہے کہ ایران جوہری معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے پڑوسی ملکوں کے خدشات کو دور کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔