.

فلپائن کے صدر کا مسلمانوں کو حکومتی خود اختیاری دینے کا وعدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلپائن کے صدر روڈریگو دوتیرتی نے ملک کے سب سے زیادہ شورش زدہ علاقوں کو حکومتی خود اختیاری دینے کے لیے قانون سازی کا عمل تیز کر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کا مقصد کئی دہائیوں سے جاری بغاوت کو ختم کرنے اور شدت پسندوں کی بڑھتی سرگرمیوں کو ناکام بنانے کے واسطے طویل عرصے سے جاری عمل کو آگے بڑھانا ہے۔

پیر کے روز صدر دوتیرتی کو پیش کیا جانے والا قانون (Bangsamoro Basic Law (BBL مسیحی اکثریت فلپائن کی حکومت اور مسلم تنظیم "مورو اسلامک لبریشن فرنٹ" کے درمیان 20 برسوں پر مشتمل امن کے دشوار عمل کا نقطہ عروج ہے۔

اس قانون سازی کا مقصد ملک کے جنوب میں واقع جزیرے Mindanao کے مسلم اکثریتی علاقوں کو ایک خود مختار ریجن میں تبدیل کرنا ہے۔

مذکورہ قانون کے بل کو حوالے کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فلپائن کے صدر دوتیرتی نے کہا کہ " پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کے بعد میں اس قانونی بِل کی حمایت اور جلد تصدیق کروں گا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ " آئین اور مورو کے لوگوں کی توقعات کے ساتھ مناسبت رکھنے والی شقوں پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا"۔

داعش تنظیم سے متاثر باغیوں نے مِنڈاناؤ جزیرے کے شہر ماراوی پر قبضہ کر لیا۔ اس دوران حکومتی فوج کے ساتھ تقریبا سات ہفتوں کی لڑائی میں 500 سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریبا 2.6 لاکھ بے گھر ہو گئے۔ یہ گزشتہ برسوں کے دوران ملک کا سب سے بڑا سکیورٹی بحران ثابت ہوا۔

اس بل کو حکومت ، مورو اسلامک لبریشن فرنٹ اور مذہبی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل پینل نے متقفہ طور پر منظور کیا ہے۔ بل کے متن میں ایک منتخب قانون ساز اسمبلی ، وزیر اعلی ، کابینہ اور قدرتی وسائل کی آمدنی کی تقسیم سے متعلق معاہدے کی تجویز دی گئی ہے۔