ایرانی نیوکلیئر معاہدہ ابھی تک ٹرمپ انتظامیہ میں زیرِ بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی انتظامیہ کی جانب سے پیر اور منگل کی درمیانی شب یہ اعلان کیا گیا کہ وہ کانگریس کو اس امر سے آگاہ کر دے گی کہ تہران نیوکلیئر معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ میں سابق امریکی مندوب جان بولٹن نے کہا تھا کہ " ٹرمپ پر لازم ہے کہ وہ اب نیوکلیئر معاہدے سے دست بردار ہو جائیں"۔ بولٹن کے نزدیک ایران نے نیوکلیئر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس نے یورینیم اور بھاری پانی کی مقررہ مقدار سے تجاوز کیا ، بین الاقوامی منڈی سے نیوکلیئر ٹکنالوجی اور میزائل پروگرام میں دُہرے طور پر استعمال میں آنے والے مواد کی خریداری کی کوشش کی اور بین الاقوامی تفتیش کی کارروائی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔

ایران سے نمٹنے کے حوالے سے امریکی سیاسی دھڑوں میں بڑا اختلاف پایا جاتا ہے۔ نیوکلیئر معاہدے کے لیے مذاکرات کے وقت سے ہی سابق اوباما انتظامیہ کو ڈیموکریٹس میں معاہدے کے حامی ملے جب کہ ریپبلکنز کے اندر اس معاہدے کے مخالفین کا سامنا ہوا۔

موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران بھرپور انداز سے نیوکلیئر معاہدے کو تنقید کا نشانہ بنایا ، ان کے مطابق ایران پر عائد نیوکلیئر پابندیاں اٹھا لی گئیں تو تہران کو دہشت گرد سرگرمیوں کی فنڈنگ کا موقع مل جائے گا۔ ٹرمپ نے معاہدے میں ترامیم کا بھی وعدہ کیا تھا۔

توقع کی جا رہی تھی کہ امریکی صدر معاہدے سے دست بردار ہونے کا اعلان کریں گے تاہم امریکی انتظامیہ کے ذمے داران پلٹ کر آئے اور صحافیوں کو آگاہ کیا کہ انتظامیہ اب معاہدے کی درستی پر کام کر رہی ہے۔ ذمے داران کے مطابق "ایران نے معاہدے کی روح کو سبوتاژ کیا"۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی صدر نے ملک کی قومی سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ وہ معاہدے کو باقی نہیں رکھنا چاہتے تاہم انتظامیہ کے سینئر ارکان نے صدر سے مطالبہ کیا کہ معاہدے کو اب باقی رہنے دیا جائے۔ ان ارکان میں وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن اور وزیر دفاع جیمس میٹس کے علاوہ جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل جان ڈینفورڈ اور قومی سلامتی کے مشیر واچ آر میمسٹر شامل ہیں۔

منگل کی صبح امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے ایرانی کارستانیوں کا مقابلہ کرنے کی پالیسی کو باور کرایا گیا۔ ادھر وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا کو مشرق وسطی میں عدم استحکام پیدا کرنے کے حوالے سے ایران کی کارروائیوں پر سخت تشویش ہے۔ ترجمان نے ایران کی جانب سے حزب اللہ اور بشار الاسد کی حکومت کی سپورٹ ، سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے لیے حوثیوں کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی اور بین البراعظمی میزائلوں کی تیاری کا حوالہ دیا۔

امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں میں ان شخصیات اور ایرانی اور بیرونی اداروں کو شامل کیا گیا جو ممکنہ طور پر میزائل یا نیوکلیئر پروگرام میں استعمال ہونے والے مواد کی اسمگلنگ میں ایران کی مدد کر رہے ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی کا جامع طور پر جائزہ لے رہی ہے۔ وزارت کی ترجمان کے مطابق اس جائزے کے ذریعے امریکا خطے میں ایران کی بے ہودہ شر انگیز کارروائیوں کا پوری طاقت سے مقابلہ کرنے پر غور کرے گا۔

امریکی سینیٹ میں خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ کورکر کے مطابق پابندیوں کا عائد کیا جانا اس بات کا اظہار ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ تزویراتی اور فعّال طریقے سے ایران کی دھمکیوں کا سامنا کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں