بحرین: دہشت گردی کا سیل بے نقاب، حزب اللہ سے تعلق پرمشتبہ افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

بحرین میں ایک غیر قانونی تنظیم کی تشکیل سے متعلق کیس کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے اور اس سے وابستہ بعض مشتبہ افراد کو کر لیا گیا ہے۔اس تنظیم نے بحرینی ریاست کو اپنی ذمے داریوں سے روکنے،شہری املاک پر حملوں اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔

بحرین کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے دہشت گردی کے جرائم کی پراسیکیوشن کے ایڈووکیٹ جنرل احمد الحمادی کے حوالے سے بتایاہے کہ اس تنظیم کے ایک غیر ملکی جنگجو گروپ کے لیے کام کرنے والے لوگوں سے ریاست میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے روابط تھے۔اس تنظیم سے وابستہ افراد نے پولیس اور امن وامان کے ذمے دار اداروں کے اہلکاروں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں کی تھیں۔غیر قانونی ریلیوں میں شرکت کی تھی ،لوگوں کی ذاتی املاک کو نقصان پہنچایا تھا اور بحرین کی قومی سلامتی اور امن عامہ کو نقصان پہنچانے کے لیے جعلی خبریں پھیلائی تھیں۔

الحمادی نے بتایا ہے کہ ’’ اس سیل سے وابستہ چار مشتبہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان میں سے دو سے ان کے وکلاء کی موجودگی میں حکام نے پوچھ تاچھ کی ہے۔ ان کے علاوہ تحقیقات کے بعد سکیورٹی ایجنسیوں نے ایک اور مشتبہ مدعا علیہ کو گرفتار کیا ہے۔اس نے منامہ رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے نام سے ایک تنظیم بنا رکھی تھی جس کو بحرین میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جارہا تھا‘‘۔

اس مشتبہ شخص نے تنظیم کے ارکان کو انسانی حقوق سے متعلق سرگرمیوں اور غیر قانونی ریلیوں میں حصہ لینے کے لیے گروپوں میں تقسیم کررکھا تھا۔ انھوں نے بظاہر انسانی حقوق کے لیے مطالبات کرنا تھا لیکن دراصل ان کا مقصد ہنگامےاور بلوے کرنا اور منامہ میں پولیس اہلکاروں اور وزارت داخلہ کی عمارت کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں کرنا تھا۔

سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق اس دہشت گرد تنظیم کا بانی اپنی سرگرمیوں کے لیے لبنان کی دہشت گرد شیعہ تنظیم حزب اللہ سے ایک بحرینی شہری کے ذریعے مدد حاصل کررہا تھا۔یہ بحرینی اس دہشت گرد گروپ کے لیے کام کررہا تھا اور لبنان میں مقیم تھا۔

ایڈووکیٹ جنرل نے مزید بتایا : تحقیقات سے یہ بھی پتا چلاہے کہ حزب اللہ انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیموں سے وابستہ بہت سے افراد کی مالی معاونت کررہی تھی تاکہ بحرین ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں جعلی رپورٹس پھیلائی جا سکیں۔

ان کا مقصد ان ممالک کے عالمی برادری میں تشخص کو داغدار کرنا اور عالمی رائے عامہ کو ان کے خلاف گم راہ کرنا تھا۔ایک مشتبہ عورت انسانی حقوق کے کام کو الکرامہ فاؤنڈیشن کے ساتھ روابط کے لیے استعمال کررہی تھی۔وہ بھی بحرین کے بیرون ملک تشخص کو خراب کرنے کے لیے جعلی خبریں پھیلا رہی تھی۔

الکرامہ کے بانی کا نام بحرین ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور مصر کی جانب سے جاری کردہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہے ۔امریکا کے محکمہ خزانہ نے بھی اس کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔اس کے عالمی دہشت گرد گروپ القاعدہ کے ساتھ تعلقات کی بنا پر 2013ء سے امریکا میں اثاثے منجمد ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں