عراقی کردستان کی آزادی روکنے کے لیے ایران میں جنگجو بھرتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران نے ایک بار پھر عراق کے صوبہ کردستان کی علاحدگی کی تحریک کچلنے کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔

ایران کے ایک کرد صحافی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ فارسی سیکشن کو ٹیلیفون پر بتایا کہ پاسداران انقلاب اور اس کی ماتحت نیم سرکاری ملیشیا ’باسیج‘ کو حکومت کی طرف سے احکامات ملے ہیں کہ وہ عراق کے صوبہ کردستان کی آزادی کی تحریک روکنے کے لیے جنگجو بھرتی کرنا شروع کریں۔ تاکہ عراقی کردستان کے اعلان آزادی کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں جنگجو عراق بھیج کر علاحدگی پسندی کی تحریک کو کچلا جاسکے۔

کرد صحافی ’آزاد مستوفی‘ نے جو ان دنوں فرانس میں جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں نےایرانی کردستان کے ایک باوثوق ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ پاسداران انقلاب اور بسیج ملیشیا کے دفاتر میں چند روز قبل جنگجو بھرتی کرنے کی مہم شروع ہوئی تھی جو اب بھی جاری ہے۔ اس مہم کے تحت عراق کے صوبہ کردستان کی آزادی کی تحریک روکنے کے لیے جنگجو بھرتی کرکے انہیں عسکری تربیت فراہم کرنا اور بعد ازاں انہیں عراق بھیجنا ہے۔ ایران میں بھرتی کیے گئے جنگجوؤں کو عراق کے صوبہ کردستان کی البیشمرگہ فوج کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کردستان سے تعلق رکھنے والے پاسداران انقلاب کے بعض عہدیداروں نے عراقی کردوں کے خلاف جنگ کے لیےاپنی عدم رضامندی کا اظہار کیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ داعش کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

’آزاد مستوفی‘ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ عراق کے کرد اکثریتی ریجن کردستان کے وزیر اعلیٰ مسعود بارزانی کے اعلان کے مطابق آئندہ 25 دسمبر کو آزاد کردستان کے لیے ریفرنڈم کرایا جائے گا۔ ایران ہر صورت میں اس ریفرنڈم کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ اگر طاقت کا استعمال ضروری ہوا تو ایران اس سے بھی گریز نہیں کرے گا۔

خیال رہے کہ ایران میں بھی کردوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ کرد ایران کی کل آبادی کا ایک تہائی ہیں۔ کردوں کے علاوہ فارسی بولنے والے، ترک اور آذر باشندے بھی تین صوبوں میں اکثریت رکھتے ہیں۔ کردستان، کرمان شاہ اور عیلام میں کردوں کی اکثریت ہے تاہم مشرقی آذربائیجان، شمالی خرسان اور پورے ایران میں کرد آباد ہیں مگر وہ اکثریت میں نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایران میں کرد آبادی کی تعداد 90 لاکھ ہے۔

ایران کو خدشہ ہے کہ اگر عراق میں کردوں کو خود مختاری کا حق مل گیا تو اگلے مرحلے میں ایرانی کرد بھی علاحدگی کے لیے بندوق اٹھا سکتے ہیں۔ اگرچہ ایران میں کردوں کو سنہ 1946ء سے نیم خود مختاری حاصل تھی۔ ایرانی کردستان کو ’جمہوریہ مھا آباد‘ کہا جاتا تھا۔ مگر ایران کے سابق بادشاہ رضا شاہ پہلوی نے جمہوریہ مہا آباد آباد کے صدرقاضی محمد کو قتل کرادیا تھا۔

ایرانی کردستان میں علاحدگی کے لیے تحریکیں چل رہی ہیں۔ حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والی بڑی کرد تنظیموں میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کردوں کی سب سے پرانی جماعت ہے جو سنہ 1946ء میں قائم کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ کوملہ کردستان، کردستان فریڈم پارٹی، بیجک پارٹی اور کردستان ورکز پارٹی شامل ہیں۔

عراق میں جیسے جیسے آزاد کردستان کے لیے ریفرنڈم کا وقت قریب آ رہا ہے۔ ایرانی حکومت میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ ایرانی حکام کی طرف سے عراقی کردستان کی ممکنہ علاحدگی پر رد عمل بھی جاری ہے۔ حال ہی میں ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی نے کرد پارٹی کے ایک رہ نما سے ملاقات میں کہا تھا کہ اگر عراقی کردستان علاحدگی کا اعلان کرتا ہے تو ایران اسے تنہا کرنے کے لیے تمام اقدامات کو بروئے کار لائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں